پیر, ستمبر 7, 2026
ہومبینک اور مالیاتمیزان بینک کے منافع میں سالانہ بنیادوں پر 23 ارب 40 کروڑ...

میزان بینک کے منافع میں سالانہ بنیادوں پر 23 ارب 40 کروڑ روپے کا اضافہ دیکھا گیا اور فی حصص آمدن 13 روپے رہی۔

رواں سال کے اختتام تک بنیادی شرح سود میں 50 بیسز پوائٹس اضافے کا امکان ہے۔ میزان بینک انتظامیہ

میزان بینک آئندہ سال شرعی کریڈٹ کارڈ متعارف کرائے گا۔

کراچی: میزان بینک کی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں سرمایہ کاری کا مشورہ دینے والے تجزیہ کاروں کو بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ جنوری سے مارچ کی سہ ماہی کے دوران منافع میں اضافے کی بڑی وجہ فیس امدن میں26 فیصد،  ڈیویڈنڈ آمدنی میں 58 فیصد اور زیادہ کیپٹل گینز95 کروڑ روپے سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اگرآمدنی کے مجموعی اسپریڈ کی بات کی جائے تو اس میں سالانہ بنیادوں پر ایک فیصد کی کمی ہوئی اور یہ 61 ارب 40 کروڑ روپے رہا۔ جس کی وجہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے بنیادی شرح سود میں کمی کرنا تھا۔ دوسری جانب اثٓاثوں میں اضافے نے شرح سود میں کمی کے اثرات کو زائل کردیا ہے۔

تنخواہوں اور مارکیٹنگ اور برانچ نیٹ ورک میں توسیع کی وجہ سے بینک کے آپریٹنگ اخراجات 18 فیصد بڑھ کر 23 ارب 30 کروڑ روپے ہوگئے۔ مارچ تک دس نئی برانچوں کا اضافہ کیا گیا۔  جس کے بعد بینک برانچوں کی کل تعداد 1115 ہوگئی ہے۔ جبکہ رواں سال کے اختتام تک مذید 150برانچیں کھولنے پر کام جاری ہے۔

مارچ 2026 تک بینک کے مجموعی ڈیپازٹس 26 فیصد اضافے کے بعد 3 ہزار 600 ارب روپے ہوگئی۔ جس کی اصل وجہ کرنٹ اکاونٹ میں 31 فیصد اضافہ ہے۔ بینک میں جمع شدہ رقوم میں 71 فیصد انفرادی، 27 فیصد نجی شعبہ اور 2 فیصد سرکاری اداروں یا غیر بینکاری مالیاتی اداروں کی رقوم ہیں۔

میزان بینک کی سرمایہ کاری میں 31 فیصد اضافے کے بعد 2 ہزار 700 ارب روپے ہوگئی۔ جس میں 84 فیصد حصہ حکومتی اجارہ صکوک (GIS) کا ہے۔ ان میں سے 74 فیصد ویری ایبل ریٹ جبکہ 26 فیصد فکسڈ ریٹ ہیں۔ حکومت کے فکسڈ صکوک پرتقریباً 11.8 فیصد منافع ہے۔ اورویری ایبل GIS اپنی بینچ مارک ریٹ کے قریب ہیں۔

بینک کے غیر فعال قرضے دو فیصد ہیں۔ جبکہ غیر فعال قرضوں کی کوریج 151 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ انتظامیہ کو توقع ہے کہ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو سال 2024 کی ریکارڈ منافع کو بھی عبور کیا جا سکتا ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے وضع کردہ مانیٹری پالیسی پر بینک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سال 2026 کے اختتام تک 50 بیسس پوائنٹس تک شرح سود میں اضافے کا امکان ہے۔ تاہم اسٹیٹ بینک کے محتاط رویے کے باعث آئندہ پالیسی بیان میں شرح سود برقرار رہنے کا امکان بھی موجود ہے۔

میزان بینک کے شریعہ بورڈ سے کریڈٹ کارڈ کی منظوری حاصل ہو چکی ہے اور آئندہ سال تک کریڈٹ کارڈ متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔

بینک کا تجارتی حجم 11 فیصد بڑھ کر 2.3 ارب ڈالر ہوگیا، جس میں 39 فیصد برآمدات اور 61 فیصد درآمدات شامل ہیں۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین