کراچی: اے کے ڈی سیکورٹیز کی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کی تیسری سہ ماہی کے اختتام پر سیمنٹ کمپنیوں کا مجموعی منافع 26 ارب 60 کروڑ روپے رہا جو کہ سالانہ بنیادوں پر 3 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ منافع میں اس اضافے کی بڑی وجہ سیمنٹ کی طلب اور قیمتوں میں اضافہ ہے۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں اندراج فوجی سیمنٹ کا منافع 62 فیصد، پائنیرسیمنٹ 56 فیصد اور ڈی جی خان سیمنٹ 25 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ لکی سیمنٹ کا منافع سالانہ بنیادوں پر مستحکم رہا ہے۔ دوسری جانب کوہاٹ سیمنٹ کے منافع میں 20 فیصد اور چکوال سیمنٹ میں 16 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔ جس کی وجہ افغان سرحد بند ہونے کے بعد کوئلے کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ جبکہ میپل لیف سیمنٹ کی آمدن میں 30 فیصد کمی ہوئی ہے۔ جس کی وجہ (acquisition) سے متعلق مالیاتی اخراجات بڑھنے کے باعث ہے۔
سیمنٹ کی مجموعی فروخت میں 5 فیصد اور اوسط قیمتوں میں 4 فیصد اضافہ دیکھا گیا جس نے منافع کو سہارا دیا۔ افغان سرحد کی بندش سے کوئلے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اور دیگر آمدنی میں کمی نے اس بہتری کو جزوی طور پر متاثر کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ لکی سیمنٹ کو اپنی ذیلی کمپنی LEPCLلکی الیکٹرک پاور کمپنی سے ملنے والے ڈیویڈنڈ کے باعث منافع توقعات سے زیادہ رہا۔
سیمنٹ سیکٹر کے مجموعی مارجن میں 55 بیسس پوائنٹس اضافے کے بعد 33.2 فیصد ہوگیا۔ جس کی وجہ زیادہ فروخت، بہتر قیمتیں اور بجلی کے نرخوں میں 14 فیصد کمی ہے۔
سیمنٹ کے شعبے میں دیگر آمدنی میں 15 فیصد کمی ہوئی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ منافع کی شرح میں کمی اور لکی سیمنٹ کی ڈیویڈنڈ آمدنی میں کمی ہے۔ جبکہ اس سیکٹرکے نقد اور قلیل مدتی سرمایہ کاری میں 58 فیصد اضافے سے 212 ارب 40 کروڑ روپے ہوگیا۔
آپریٹنگ اخراجات میں 19 فیصد اضافے کے بعد 8 ارب 60 کروڑ روپے ہوگئے، جس کی وجہ ٹرانسپورٹ لاگت اور برآمدات میں 8 فیصد اضافہ ہے۔ مالیاتی اخراجات میں سالانہ بنیادوں پر 4 فیصد کمی کے بعد 3 ارب 40 کروڑ روپے رہے، جبکہ سہ ماہی بنیاد پر 42 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ میپل لیف کی جانب سے پائنئر سیمنٹ کے حصول کے لیے قرض میں اضافہ ہے۔
سیکٹر کا مجموعی قرض 158 ارب 80 کروڑ روپے تک پہنچ گیا، جو سالانہ بنیادوں پر 82 فیصد اور سہ ماہی بنیادوں پر 58 فیصد زیادہ ہے۔

