اسلام آباد ، 28 اپریل 2026: لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) نے ہونڈا اٹلس کارز (پاکستان) لمیٹڈ کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیل مسترد کرتے ہوئے مسابقتی ایکٹ 2010 کے تحت اپیل کے مقررہ طریقہ کار کو برقرار رکھا اور کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے انکوائری کے اختیار کی توثیق کردی۔
ہونڈا نے یہ اپیل لاہور ہائی کورٹ کے 20 اکتوبر 2025 کے فیصلے کے خلاف دائر کی تھی جس میں اس کی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔ عدالت نے اس فیصلے میں قرار دیا تھا کہ سی سی پی کو کمپٹیشن ایکٹ 2010 کی دفعات 36 اور 37 کے تحت معلومات حاصل کرنے، مارکیٹ کے طرز عمل کا جائزہ لینے اور ممکنہ مسابقت مخالف سرگرمیوں کی تحقیقات کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کمیشن کو معلومات فراہم کرنا قانونی ذمہ داری ہے اور کارروائی کے آخری مراحل میں دائرہ اختیار کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کے دوران جسٹس چوہدری محمد اقبال اور جسٹس سید احسن رضا کاظمی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے قرار دیا کہ یہ اپیل قابل سماعت نہیں کیونکہ قانون میں اپیل کا واضح اور مؤثر طریقہ موجود ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب قانون میں متبادل اپیل کا حق موجود ہو تو لاء ریفارمز آرڈیننس 1972 کے تحت ہائی کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل قابل قبول نہیں رہتی۔
عدالت نے وضاحت کی کہ کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت کسی رکن یا مجاز افسر کے حکم کے خلاف 30 دن کے اندر کمیشن کے اپیلیٹ بینچ میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے، جبکہ کمیشن یا اس کے اپیلیٹ بینچ کے فیصلے کے خلاف 60 دن کے اندر کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ جب یہ قانونی فورمز دستیاب ہوں تو دورانِ انکوائری آئینی درخواستیں یا انٹرا کورٹ اپیلیں قابل سماعت نہیں ہوتیں، خصوصاً جب کوئی حتمی حکم جاری نہ ہوا ہو۔
سی سی پی کی یہ انکوائری نومبر 2018 میں شروع ہوئی تھی جس میں آٹو سیکٹر میں مبینہ مسابقت مخالف اقدامات، بشمول آن منی، تاخیر سے ڈیلیوری اور بکنگ کے بعد قیمتوں میں اضافہ، کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں متعدد نوٹسز جاری کیے گئے تاہم مطلوبہ معلومات مکمل طور پر فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ فیصلہ کمپٹیشن قانون کے تحت اپیل کے خودمختار نظام کو مضبوط بناتا ہے اور سی سی پی کے انکوائری اور نفاذ کے اختیارات کو تقویت دیتا ہے، جس سے مارکیٹ میں شفافیت اور منصفانہ مسابقت کو فروغ ملے گا۔

