جمعرات, مئی 28, 2026
ہومآٹوموبلایس ای سی پی کی کوششیں کامیاب: سندھ میں گاڑیوں کی 'تھرڈ...

ایس ای سی پی کی کوششیں کامیاب: سندھ میں گاڑیوں کی ‘تھرڈ پارٹی انشورنس’ لازمی قرار

اسلام آباد، 7 مارچ: سندھ حکومت نے موٹر وہیکل ایکٹ میں ترامیم متعارف کر دیں ہیں جس کے بعد اب صوبے بھر میں ہر قسم کی گاڑیوں کے لیے ‘تھرڈ پارٹی موٹر دہیکل انشورنس’ کروانا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کی شرائط، موٹر وہیکل رجسٹریشن ایکٹ کے صوبائی قانون کا حصہ ہے، جس کے تحت سڑک پر حادثہ پیش انے کی صورت میں گاڑی سے کسی تیسرے شخص کو نقصان پہنچنے پر متاثرہ فرد کو بیمہ کی رقم فراہم ادا کی جاتی ہے۔

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اف پاکستان اس قانون کے لازمی نفاذ اور اس کے تحت بیمہ کی رقم میں مناسب اضافے کے لیے وہیکل رجسٹریشن ایکٹ کے صوبائی قانون میں ترامیم کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ اس قانون کے موثر نفاذ سے حادثات کے شکار لوگوں کی مدد یقینی بنائی جا سکتی ہے اور دوسری طرف ملک میں انشورنس کی مجموعی شمولیت میں بھی اضافہ ممکن ہے۔

سندھ اب پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جہاں عوامی تحفظ کے اس قانون کو منظم طریقے سے نافذ کر دیا گیا ہے۔ سندھ میں وہیکل رجسٹریشن ایکٹ میں ترامیم کے بعد اب سندھ میں کوئی بھی گاڑی اس انشورنس کے بغیر رجسٹر نہیں ہو سکے گی اور نہ ہی کسی دوسرے کے نام ٹرانسفر کی جا سکے گی اور نہ ہی انشورنس کے بغیر گاڑی کے سالانہ ٹوکن ٹیکس جمع ہو سکے گا۔

تھرڈ پارٹی انشورنس ایک بہت ہی سستی اور بنیادی بیمہ پالیسی ہوتی ہے جو اس صورت میں کام آتی ہے جب آپ کی گاڑی سے کسی دوسرے شخص کا جانی یا مالی نقصان ہو جائے۔ اس قانون میں اب ادا کیے جانے والے معاوضے کی رقم بھی طے کر دی گئی ہے ۔ ترامیم کے بعد اب حادثے میں انتقال کی صورت میں سات لاکھ روپے اور مستقل معذوری کی صورت میں پانچ لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے گا۔

تھرڈ پارٹی موٹر وہیکل کے قانون کے موثر اور شفاف نفاذ کے لیے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے ایک سینٹرل الیکٹرانک ڈیٹا بیس بھی تیار کیا ہے جہاں تمام انشورنس پالیسیوں کا ریکارڈ موجود ہوگا اور گاڑی کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کے وقت انشورنس کی آن لائن تصدیق کی جا سکے۔

ایس ای سی پی پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ساتھ بھی مل کر کام کر رہا ہے تاکہ پنجاب وہیکل رجسٹریشن ایکٹ میں بحی ترامیم کر کے معاوضے کی رقم میں اضافہ اور قانون کو لازمی قرار دیا جا سکے۔ ایس ای سی پی نے سندھ حکومت کے اس اقدام کو سراہا تے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ دیگر صوبے بھی عوام کی حفاظت کے اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے جلد اقدام کریں گے۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین