
کراچی: آغا خان یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کلورہیگزیڈین کے استعمال سے کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں نال کے انفیکشن کی شرح تقریباً 29 فیصد تک کم ہو سکتی ہے اور اس سے نوزائیدہ بچوں کی اموات میں بھی کمی ممکن ہے۔
یہ تحقیق پروفیسر ذوالفقار احمد بھٹہ کی قیادت میں کی گئی، جو کینیڈا کے سینٹر فار گلوبل چائلڈ ہیلتھ اور پاکستان میں آغا خان یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ سے وابستہ ہیں۔ کوکرین ریویو پر مبنی اس مطالعے میں 18 رینڈمائزڈ کنٹرولڈ ٹرائلز کا منظم جائزہ لیا گیا جن میں 143,150نوزائیدہ بچے شامل تھے۔ تحقیق کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ نال کے بچے ہوئے حصے پر اینٹی سیپٹک لگانے سے انفیکشن، اموات یا نال کے گرنے میں تاخیر پر کیا اثر پڑتا ہے، اس کا موازنہ بغیر کسی علاج کے ساتھ کیا گیا۔ جائزے میں 4.0 فیصد کلورہیگزیڈین (CHX)، 70 فیصد الکحل، سلور سلفاڈایازین اور پوویڈون آئیوڈین جیسے اینٹی سیپٹکس شامل تھے۔
محققین نے پایا کہ نوزائیدہ بچوں کی نال پر کلورہیگزیڈین لگانے سے انفیکشن کی تعداد تقریباً 87 فی ہزار سے کم ہو کر 62 فی ہزار تک آ سکتی ہے جبکہ اموات کی شرح تقریباً 18 فی ہزار سے کم ہو کر 15 فی ہزار تک ہو سکتی ہے۔ کلورہیگزیڈین نال کے بچے ہوئے حصے کے گرنے میں ایک سے دو دن کی تاخیر بھی کر سکتی ہے۔
پروفیسر ذوالفقار احمد بھٹہ نے کہا” ہماری تحقیق مجموعی طور پر عالمی ادارہ صحت کی موجودہ رہنمائی کی حمایت کرتی ہے لیکن یہ ایک اہم نکتے کو بھی اجاگر کرتی ہے یہ اقدامات ہر جگہ یکساں طور پر مؤثر نہیں ہوتے۔ فوائد اس ماحول پر منحصر ہوتے ہیں جہاں بچے پیدا ہوتے ہیں۔ جو طریقہ بہترین ہے وہ مقامی حالات پر منحصر ہوتا ہے۔ “
نال کی دیکھ بھال نوزائیدہ بچوں کی صفائی کا ایک اہم حصہ ہے جو انفیکشن سے بچاؤ اور صحت مند زخم بھرنے میں مدد دیتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2023 میں تقریباً 23 لاکھ نوزائیدہ بچوں کی اموات ہوئیں، جن میں سب سے زیادہ بوجھ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک پر تھا۔
یونیورسٹی آف آئیووا کے لیڈ مصنف ڈاکٹر عامر امداد نے کہا” دنیا کے کئی حصوں میں نوزائیدہ بچے اب بھی ایسے ماحول میں پیدا ہوتے ہیں جہاں صفائی کے حالات مناسب نہیں ہوتے۔ سادہ اور آسانی سے دستیاب نال کی دیکھ بھال کے طریقے ان جگہوں پر انفیکشن کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں جو اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ نوزائیدہ اموات کا بڑا حصہ انفیکشن سے جڑا ہوتا ہے۔ “
ایسے ممالک میں جہاں زچگی کی سہولیات بہتر اور نوزائیدہ اموات کم ہیں، خشک نال کی دیکھ بھال (ڈرائی کورڈ کیئر) اب بھی تجویز کردہ طریقہ ہے۔ دنیا بھر میں نال کی دیکھ بھال کے طریقے مختلف ہیں جو مقامی ثقافت، صحت کے نظام اور دستیاب وسائل سے متاثر ہوتے ہیں۔
جہاں زچگی کی سہولیات مناسب اور نوزائیدہ اموات کم ہوں وہاں عالمی ادارہ صحت صاف اور خشک نال کی دیکھ بھال کی سفارش کرتا ہے جس میں نال کو صاف اور خشک رکھا جاتا ہے اور کوئی اینٹی سیپٹک استعمال نہیں کیا جاتا۔ جبکہ زیادہ نوزائیدہ اموات والے علاقوں میں ایک ہفتے تک روزانہ 4 فیصد کلورہیگزیڈین لگانے کی سفارش کی جاتی ہے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ کئی جگہوں پر صرف صاف اور خشک دیکھ بھال کافی ہوتی ہے، جبکہ دیگر جگہوں پر اینٹی سیپٹک طریقے انفیکشن کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ایسے اقدامات اختیار کیے جائیں جو خاندانوں اور صحت کے نظام کے حقیقی حالات کے مطابق ہوں۔

