اسلام آباد ، 20 اپریل 2026کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل (ٹربیونل) نے کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے 27 مئی 2025 کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کنگڈم ویلی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ہاؤسنگ منصوبے کے مقام اور منظوری کی حیثیت سے متعلق صارفین کو گمراہ کرنے پر 3 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانہ جمع کرائے۔
کارروائی کے دوران کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ کنگڈم ویلی نے دانستہ طور پر گمراہ کن تشہیری مہم چلائی، جس میں اپنے منصوبے کو، جو درحقیقت ضلع راولپنڈی میں واقع ہے، بل بورڈز، سوشل میڈیا اور دیگر اشتہارات کے ذریعے اسلام آباد میں ظاہر کیا گیا، تاکہ صارفین کو زیادہ قیمت پر راغب کیا جا سکے۔ مزید یہ کہ منصوبے کو باضابطہ منظوری حاصل ہونے سے قبل ہی اسے “این او سی منظور شدہ” کے طور پر پیش کیا گیا، جو ایک سوچے سمجھے دھوکہ دہی کے طریقہ کار کی نشاندہی کرتا ہے۔
اپنے تفصیلی فیصلے میں ٹربیونل نے کمیشن کے مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے قرار دیا کہ کمپنی نے منصوبے کو “کنگڈم ویلی اسلام آباد” کے طور پر پیش کر کے واضح طور پر غلط بیانی کی، حالانکہ اس کا اصل مقام راولپنڈی ہے۔ ٹربیونل نے نوٹ کیا کہ اشتہارات منظوری حاصل کرنے سے قبل ہی جاری کر دیے گئے تھے، جس سے دھوکہ دہی کا پہلو مزید واضح ہوتا ہے۔
ٹربیونل نے کنگڈم ویلی کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ اس شعبے میں اس طرح کے طریقے عام ہیں، اور قرار دیا کہ “جب خلاف ورزی دن دہاڑے ہو تو دھوکہ دہی کا پہلو ناقابل تردید ہو جاتا ہے”، مزید یہ کہ “دو غلطیاں کبھی ایک درست عمل نہیں بن سکتیں”۔
کمپٹیشن ایکٹ کے سیکشن 10(2)(ب) کے تحت خلاف ورزی کو برقرار رکھتے ہوئے، جو صارفین کو گمراہ کن معلومات فراہم کرنے سے متعلق ہے، ٹربیونل نے 3 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانہ برقرار رکھا اور منصوبے کے مقام کی غلط بیانی کو “سنگین خلاف ورزی” قرار دیا۔ ٹربیونل نے زور دیا کہ اس نوعیت کے اقدامات خاص طور پر رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں انتہائی نقصان دہ ہیں، جہاں صارفین کو مبالغہ آمیز دعوؤں کے ذریعے گمراہ کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
ٹربیونل نے مزید ہدایت کی کہ اگر مقررہ 20 دن کے اندر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو کمیشن کا اصل فیصلہ مکمل طور پر بحال ہو جائے گا، جس سے کمپنی کو مزید مالی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ فیصلہ سی سی پی کے گمراہ کن تشہیر کے خلاف سخت مؤقف کو مزید تقویت دیتا ہے، خصوصاً رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں، جہاں صارفین کی شکایات اور غلط تشہیر کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

