وزیر اعلی سندھ نے موٹرسائیکل سواروں، کسانوں کے لئے سبسڈی پروگرام کی تفصیلات جاری کردیں
کراچی (6 اپریل): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے موٹر سائیکل سواروں کے لئے ماہانہ دوہزار روپے سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلی ہاوس میں میڈیا بریفنگ میں وزیراعلی نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی کے اثرات سے شہریوں کو بچانے کے لیے ہدفی موٹر سائیکل فیول سبسڈی پروگرام کے تحت ڈیجیٹل رجسٹریشن نظام کا اجرا کردیا، جبکہ ایک وسیع ریلیف پیکج بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سبسڈی دینے کا اقدام ایک جامع ہدفی سبسڈی فریم ورک کا حصہ ہے جس کا مقصد کمزور طبقات کو براہِ راست مالی معاونت فراہم کرنا اور معاشی استحکام و شفافیت کو برقرار رکھنا ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزراء شرجیل میمن، ناصر شاہ، مکیش چاولہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب بھی موجود تھے۔
اس اسکیم کے تحت ہر رجسٹرڈ موٹر سائیکل مالک کو ماہانہ 2 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے، جو تقریباً 20 لیٹر ایندھن پر سبسڈی کے برابر ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ صرف وہی موٹر سائیکلیں اس سہولت کی اہل ہوں گی جو مالک کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہوں۔
سبسڈی حاصل کرنے کا طریقہ کار بتاتے ہوئے وزیراعلی کا کہنا تھا کہ محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن نے آن لائن تصدیق اور رجسٹریشن کا نظام متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے شہری اپنی ملکیت کی تصدیق اور ڈیجیٹل درخواست دے سکتے ہیں۔ درخواست گزاروں کو اپنا قومی شناختی کارڈ نمبر اور بینک اکاؤنٹ (آئی بین) درج کرنا ہوگا جس کے بعد انہیں خودکار تصدیق موصول ہوگی۔
عوام کی سہولت اور انہیں مذید ریلیف دینے کے لئے حکومت نے موٹر سائیکل کی ملکیت ممنتقلی پرعائد 500 روپے فیس ختم کردی ہے۔ اس کے علاوہ سندھ بھر میں ایکسائز دفاتر آئندہ 15 دنوں تک صبح 8 بجے سے رات 12 بجے تک بشمول ہفتہ و اتوار، کھلے رہیں گے۔ اب تک تقریباً 1500 موٹر سائیکلیں درست مالکان کے نام منتقل کی جا چکی ہیں۔
درخواست گزاروں کی رہنمائی کے لیے 634-374-111-021 پر ایک ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ 3 ارب روپے کا کسان سبسڈی پروگرام بھی اسی ہفتے شروع کیا جا رہا ہے جس کے تحت چھوٹے کاشتکاروں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
مجموعی طور پر ہدفی سبسڈی فریم ورک میں بائیک سبسڈی کے لیے 13.4 ارب روپے ٹرانسپورٹ سبسڈی کے لیے (وفاقی حکومت کے تعاون سے) 14.3 ارب روپے ماہانہ، کرایہ استحکام کے لیے 3 سے 4 ارب روپے اور کسانوں کے لیے 3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت ضروری اشیاء، خصوصاً آٹا اور دیگر اشیائے خورد و نوش پر بھی براہِ راست ریلیف فراہم کرنے کے طریقہ کار پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام مالی شمولیت کو فروغ دے گا کیونکہ شہریوں کو براہِ راست ادائیگی کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنے کی ترغیب دی جا رہی ہے جبکہ سیلاب کے بعد بحالی کے دوران بنائے گئے نظام سے بھی فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سبسڈی پروگرام مکمل طور پر شفاف ڈیجیٹل نظام کے تحت چلایا جا رہا ہے تاکہ صرف مستحق افراد کو ہی فائدہ پہنچے۔

