جمعہ, جون 5, 2026
ہومصحتآغاخان یورنیورسٹی کا صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر...

آغاخان یورنیورسٹی کا صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر جائزہ

کراچی :ٹی بی کی تشخیص کیلئے اے آئی سے چلنے والے کھانسی کے تجزیے سے لے کر ماں اور بچے کی صحت میں معاونت کرنے والے مشین لرننگ ماڈلز تک، آغا خان یونیورسٹی (AKU) کے مختلف محققین مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل انٹیلی جنس (DI) کو استعمال کرتے ہوئے صحت، تعلیم اور ترقی کے شعبوں میں آج کے چند اہم ترین چیلنجز سے نمٹ رہے ہیں۔

یہ جدید تحقیقی اقدامات AKU گلوبل ریسرچ شوکیس ” اثر انگیزی کیلئے اے آئی اور ڈیجیٹل انٹیلی جنس کا استعمال “ کے دوران توجہ کا مرکز بنے۔ اس تقریب کا انعقاد اے کے یو ریسرچ آفس کی جانب سے کیا گیا، جس میں فیکلٹی اراکین، طلبہ، سابق طلبہ، عطیہ دہندگان، شراکت داروں، پالیسی سازوں اور اے کے یو کے عالمی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں نے شرکت کی۔ کراچی اور آن لائن منعقد ہونے والی اس ہائبرڈ تقریب میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں اے آئی پر مبنی تحقیق کو مقامی ضروریات اور اخلاقی اصولوں کے مطابق کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔

تقریب کا افتتاح کرتے ہوئے اے کے یو کے صدر اور وائس چانسلر ڈاکٹر سلیمان شہاب الدین نے اس بات پر زور دیا کہ جامعات کو اے آئی کے مستقبل کی ذمہ دارانہ تشکیل میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا”اے کے یو میں ہم اے آئی کے دور میں محض خاموش مبصر نہیں ہیں۔ ہم ایسے اختراع کار ہیں جو یہ دریافت کر رہے ہیں کہ یہ طاقتور ٹیکنالوجی صحت، تعلیم اور علمی تحقیق کو کس طرح آگے بڑھا سکتی ہے جبکہ ہم اس بات کو بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ اس کا استعمال اخلاقی ہو اور صحت و اعلیٰ تعلیم کے شعبوں پر عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط کرے۔ “

شوکیس میں اے کے یو کی فیکلٹی اور طلبہ کی جانب سے مختصر مگر جامع پریزنٹیشنز پیش کی گئیں جن میں اے آئی کی مدد سے کینسر کی تشخیص، ریڈیو تھراپی میں ڈیجیٹل ٹوئنز، نرسنگ اور ریاضی کی تعلیم میں اے آئی پر مبنی تدریسی ٹولز جیسے موضوعات شامل تھے۔ دیگر پریزنٹیشنز میں سانس کی بیماریوں کی تشخیص، ماں اور جنین کی صحت، بچوں کی نشوونما، پبلک ہیلتھ ہاٹ لائنز، ڈیمنشیا ریسرچ اور بڑے پیمانے پر ٹیکسٹ ٹرانسکرپشن میں اے آئی کے استعمال پر روشنی ڈالی گئی۔

یونیورسٹی آف مشیگن کے وائس پریذیڈنٹ برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور چیف انفارمیشن آفیسر ڈاکٹر روی پینڈسے نے” عملی انسانی مرکزیت پر مبنی اے آئی، عالمی اثرات کیلئے تحقیق کی نئی تشکیل کے عنوان سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی میں جدت کو اعتماد، اخلاقیات اور سماجی فائدے کے اصولوں پر قائم رہنا چاہیے۔“

ڈاکٹر پینڈسے نے کہا” اے آئی انسانی فیصلے، ہمدردی یا ذمہ داری کا متبادل نہیں ہے۔ ہمارے پاس یہ موقع ہے کہ ہم انسانی مرکزیت پر مبنی ایسی اے آئی تیار کریں جو تحقیق کو مضبوط بنائے، لوگوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے اور اہم مسائل کو ذمہ داری کے ساتھ حل کرنے میں مدد دے۔ وہ ادارے جو واضح حکمت عملی اور مضبوط مقصد کے ساتھ قیادت کریں گے، وہ اے آئی کے مستقبل کو تشکیل دیں گے، محض اس پر ردعمل نہیں دیں گے۔“

پروگرام میں اے کے یو کی پہلی ادارہ جاتی سطح کی ”ڈیجیٹل انوویشن میپنگ رپورٹ“بھی پیش کی گئی جس میں یونیورسٹی کے تعلیمی، تحقیقی، طبی اور انتظامی شعبوں میں 300 سے زائد ڈیجیٹل اور اے آئی پر مبنی اقدامات کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ میں اے کے یو میں اے آئی جدت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط گورننس، اخلاقی نگرانی، بین الشعبہ جاتی تعاون اور ادارہ جاتی معاونت کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ مؤثر اختراعات کو ذمہ داری کے ساتھ وسیع پیمانے پر نافذ کیا جا سکے۔

تقریب میں” اخلاقی اور مؤثر تحقیق کیلئے اے آئی اور ڈیجیٹل انٹیلی جنس “ کے موضوع پر ایک پینل ڈسکشن بھی منعقد ہوئی جس میں اے کے یو، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) اور این ایچ ایس کے ماہرین نے ڈیٹا گورننس، پرائیویسی، الگورتھمک جانبداری، احتساب اور اے آئی تحقیق کو عملی اور قابل توسیع حل میں تبدیل کرنے جیسے موضوعات پر گفتگو کی۔ پینل میں شریک ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ جامعات کو ایسے گورننس فریم ورک کی تشکیل میں کردار ادا کرنا چاہیے جو اے آئی ٹیکنالوجیز کو منصفانہ، شفاف اور سماجی ضروریات سے ہم آہنگ رکھ سکیں۔

اے کے یو کے وائس پرووسٹ برائے ریسرچ پروفیسر سلیم ویرانی نے کہا کہ” اے آئی کا ذمہ دارانہ استعمال جامعات کو بڑے پیمانے پر مؤثر نتائج پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اے آئی میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے کہ یہ اے کے یو جیسے اداروں کو پیچیدہ چیلنجز کا زیادہ درست اور مؤثر انداز میں سامنا کرنے میں مدد دے۔ لیکن اس کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ اسے معیارِ زندگی بہتر بنانے اور ان کمیونٹیز کو امید دینے کیلئے کس حد تک ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے جن کی ہم خدمت کرتے ہیں۔ یہ شوکیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اے کے یو ایک تحقیق پر مبنی یونیورسٹی سے آگے بڑھ کر ایسی جامع تحقیقی قیادت والی جامعہ بن رہی ہے جو علم کو حقیقی اور بامعنی اثرات میں تبدیل کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ “

تقریب کے اختتام پر اے کے یو کی پرووسٹ اور وائس پریذیڈنٹ اکیڈمک ڈاکٹر تانیا بوبیلا نے کہا کہ” پیش کیا گیا کام ایک عالمی ادارے کے طور پر اے کے یو کی طاقت کو ظاہر کرتا ہےجہاں محققین، معالجین، اساتذہ اور طلبہ سرحدوں سے بالاتر ہو کر ان چیلنجز کے حل کیلئے اختراعات کرتے ہیں جو اے کے یو کی خدمت حاصل کرنے والی کمیونٹیز کیلئے اہمیت رکھتے ہیں۔ “

اس شوکیس نے اس بات کو مزید مضبوط کیا کہ اے کے یو باہمی تعاون پر مبنی اور اے آئی سے تقویت یافتہ تحقیق کو فروغ دینے میں بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہا ہے، جو حقیقی دنیا کے مسائل کا حل پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاقی جدت، ذمہ دار ٹیکنالوجی کے استعمال اور اے آئی سے چلنے والی دنیا میں تحقیق کے مستقبل سے متعلق عالمی مباحث میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین