پیر, اپریل 20, 2026
ہوماجناسایران جنگ سے سپلائی چین متاثر، عالمی کھاد بحران شدت اختیار کر...

ایران جنگ سے سپلائی چین متاثر، عالمی کھاد بحران شدت اختیار کر گیا، غذائی تحفظ کو خطرات لاحق

توانائی بحران کے باعث کھاد کی قلت، یوریا قیمتوں میں اضافہ، عالمی زرعی پیداوار میں کمی کا خدشہ

ترقی پذیر ممالک شدید خطرے سے دوچار، پیداواری لاگت میں اضافہ، کسان کھاد کا استعمال کم کرنے پر مجبور

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع نے کمیاوی کھاد کے عالمی بحران کو جنم دے دیا ہے، جو تیزی سے زراعت، خوراک کی پیداوار اور اجناس کی عالمی منڈیوں کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے اور خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

اگرچہ تیل کی بڑھتی قیمتیں خبروں میں نمایاں ہیں، لیکن اصل جھٹکا کیمیاوی کھاد کی سپلائی چین کو لگا ہے، جو عالمی زراعت کا بنیادی ستون ہے۔ آبنائے ہرمز، جو ایک اہم تجارتی گزرگاہ ہے، اسی راستے سے دنیا کی تقریبا ایک تہائی کمیاوی کھاد بھی گزرتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے کھاد اور اس کے خام مال بشمول یوریا، امونیا اور سلفر کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔

کھاد کی پیداوار، جو بڑی حد تک قدرتی گیس پر انحصار کرتی ہے، توانائی کی منڈی میں دباؤ کے باعث متاثر ہوئی ہے۔ گیس کی قیمتوں میں اضافے سے نائٹروجن پر مبنی کھاد کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں کئی ممالک میں پیداوار میں کمی اور سپلائی میں تاخیر دیکھنے میں آ رہی ہے۔

نتیجتاً عالمی منڈی میں یوریا کی قیمتیں 30 سے 60 فیصد تک بڑھ چکی ہیں، جبکہ بعض منڈیوں میں قیمت 600 ڈالر فی ٹن کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اس اضافے نے خاص طور پر بوائی کے اہم سیزن میں کسانوں کے لیے لاگت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ کھاد کی کمی کے باعث کسان اس کا استعمال کم کر سکتے ہیں، جس کا براہ راست اثر فصلوں کی پیداوار پر پڑے گا۔ گندم، چاول اور مکئی جیسی بنیادی فصلوں میں کھاد کے کم استعمال سے عالمی خوراک کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے، جس سے مہنگائی اور قلت میں مزید اضافہ ہوگا۔

اس بحران کے اثرات پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ بڑی زرعی معیشتوں میں کسانوں کو کاشتکاری کے اخراجات میں نمایاں اضافے کا سامنا ہے، جہاں فی فارم کھاد کی لاگت میں ہزاروں ڈالر کا اضافہ ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو کسان کم کھاد استعمال کرنے والی فصلوں کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں، جس سے عالمی اجناس کی سپلائی کا توازن بدل سکتا ہے۔

پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ محدود ذخائر اور درآمدات پر انحصار کے باعث ان معیشتوں کو دوہرے دباؤ کا سامنا ہے — ایک طرف بڑھتی لاگت اور دوسری جانب غذائی تحفظ میں کمی۔ یہ بحران ایک اور اہم حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ کھاد زرعی پیداواری لاگت کا تقریباً 25 فیصد حصہ ہوتی ہے، اس لیے قیمتوں میں مسلسل اضافہ براہ راست خوراک کی مہنگائی کو بڑھاتا ہے۔

عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر تنازع طویل ہوا تو کھاد کی یہ کمی ایک مکمل عالمی غذائی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس سے لاکھوں افراد بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں اور زرعی اجناس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین