گندم کی خریداری کا مقصد صوبے میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے
کراچی: 28 مارچ 2026: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے صوبے میں گندم کی خریداری سے متعلق پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں سالانہ تقریباً 43 لاکھ ٹن گندم پیدا ہوتی ہے جس میں سے صوبائی حکومت دس لاکھ ٹن گندم خریدے گی۔ سندھ حکومت کی نئی گندم خریداری پالیسی سندھ حکومت کے وسیع حکومتی وژن کے مطابق تیار کی گئی ہے۔ نئی گندم خریداری پالیسی کا مقصد کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ حکومت کے پاس دو لاکھ ٹن اسٹاک میں موجود ہے اور اسے عوامی ضرورت کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔ گندم کی خریداری کا فیصلہ خوراک کی تحفظ کو یقینی بنانے اور آٹے کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لئے کیا گیا۔ یکم اپریل سے صوبے کے 109 مراکز پر گندم کی خریداری شروع ہوگی۔ فی من گندم کی امدادی قیمت 3,500 روپے مقرر کی گئی ہے۔ درمیانی لوگوں کا کردار ختم کرنے کے لئے پہلی بار گندم صرف رجسٹرڈ ہاری کارڈ ہولڈرز سے خریدی جائے گی۔ ہاری کارڈ کے ذریعے خریداری کا سب سے زیادہ فائدہ حقیقی کاشتکاروں تک پہنچے گا۔ تین لاکھ سے زائد کاشتکار براہ راست مستفید ہوں گے۔ اس سال حکومت باردانہ فراہم نہیں کرے گی۔ کاشتکار اپنے بیگ لائیں گے۔ ہر بیگ کے لیے 60 روپے کی ادائیگی براہِ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں سندھ بینک کے ذریعے کی جائے گی۔ نئے طریقہ کار سے نہ صرف خریداری کا عمل آسان ہوگا بلکہ یہ زیادہ شفاف، مؤثر اور کسی بھی ممکنہ جعلسازی سے محفوظ ہوگا۔ موجودہ پالیسی چھوٹے کاشتکاروں کی براہِ راست مالی مدد کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ ہاری کارڈ اسکیم کے تحت کاشتکار ہی ڈی اے پی اور یوریا کھاد پر سبسڈی کے ذریعے مستفید ہوئے ہیں۔ نئی پالیسی کا مقصد کاشتکاروں کی معاونت، خوراک کی حفاظت اور عوام کو کم قیمت آٹا فراہم کرنا ہے۔

