ہفتہ, جون 6, 2026
ہومبزنسلاہور کی لبرٹی مارکیٹ پاکستان کی پہلی کیش لیس مارکیٹ بن گئی...

لاہور کی لبرٹی مارکیٹ پاکستان کی پہلی کیش لیس مارکیٹ بن گئی ہے

لبرٹی مارکیٹ میں خریداری کے لئے نقد رقم اور کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کی ضرورت نہیں

موبائل فون پر ایپ کے زریعے کیو آر کوڈ کو اسکین کر کے ادائیگی کی جاسکتی ہے۔

جے ایس بینک کی موبائل ایپ زندگی  نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، کے تعاون سے لبرٹی مارکیٹ لاہور  میں خریداری کا عمل ڈیجیٹلائزکر تے ہوئے اسے کیش لیس بنادیا ہے۔ یہ اہم اقدام اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے وژنری فریم ورک کے تحت  انجام دیا گیا جو مالی شمولیت کو مضبوط بنانے اور پاکستان کو حقیقی معنوں میں کیش لیس معیشت کی جانب منتقل کرنے کی ایک بڑی پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے۔

لاہور کے مصروف ترین تجارتی مراکز میں سے ایک کی ڈیجیٹلائزیشن عملی سطح پر نمایاں اثرات کو ظاہر کرتی ہے اور پورے ملک کی دیگر مارکیٹوں کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل فراہم کرتی ہے۔ زندگی راست کیو آر (Zindigi RAAST QR)کوڈ کے ذریعے تاجر کسی بھی بینک یا والیٹ(wallet)  سے محفوظ اور فی الفور وصولی کر سکتے ہیں، جبکہ صارفین فوری تصدیق کے ساتھ آسان “اسکین اینڈ پے” کا تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ یہ مربوط نظام رفتار، تحفظ، شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور ایک ڈیجیٹل طور پر فعال، کیش لیس مارکیٹ کے قیام میں مدد دیتا ہے۔

کیش لیس نظام کے افتتاح کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے زندگی کےچیف بزنس آفیسر، عاطف اسحاق نے کہا،”یہ اقدام مقامی کاروباروں کو ادائیگی کے جدید حل فراہم کرنے کی جانب ہمارے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جس سے تاجروں کے لیے وصولی آسان ہوتی ہے اور صارفین اعتماد کے ساتھ ڈیجیٹل ذرائع سے لین دین کر سکتے ہیں۔“

افتتاحی تقریب میں زندگی کے چیف بزنس آفیسر عاطف اسحاق، ہیڈ آف مرچنٹ چینل اینڈ ریٹیل سیلز،محسن خان، ریجنل بزنس ہیڈ سینٹرل حماد رضا، اور بزنس ڈیولپمنٹ مینیجر عدنان اکرم شریک ہوئے۔اس تقریب میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ڈپٹی چیف مینیجر، بلال شفقت، اسسٹنٹ چیف مینیجر،محمد حماد، اور سینئر آفیسر،حافظ عاصم مشتاق موجود تھے جبکہ حکومتِ پنجاب کی نمائندگی ڈپٹی کمشنر لاہور،کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز اور اسسٹنٹ کمشنر، ماڈل ٹاؤن عبدالصمد شیخ نے کی۔

لبرٹی مارکیٹ کی کاروباری برادری کی نمائندگی میاں زاہد جاوید احمد (چیئرمین لبرٹی مارکیٹ)، سہیل سرفراز منج (صدر لبرٹی مارکیٹ)، اور درشن سنگھ (جنرل سیکریٹری) نے کی۔

زندگی ریگولیٹرز، شہری حکام اور کاروباری برادری کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ڈیجیٹلائزیشن کی مستقبل بنیادوں پر اپنائیت کو فروغ بنانے کے ساتھ تاجروں اور صارفین دونوں کو بااختیار بنایا جا سکے، اور اسی کے ساتھ پاکستان کو ایک شفاف اور جامع ریٹیل معیشت کی جانب تیزی سے منتقل کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین