کراچی، مارچ 26: تھر فاونڈیشن جو کہ تھر کے بلاک ٹو میں کام کرنے والی کمپنیوں کی سماجی سرمایہ کاری کا ایک شعبہ ہے۔ کو پندرہویں سالانہ کارپوریٹ ۔سوشل رسپانسبلیٹی سمٹ اینڈ ایوارڈز میں کمیونٹی امپکٹ، سوشل امپیکٹ اور ویمن امپاورمنٹ کی کیٹیگریز میں تین ایوارڈز سے نوازا گیا
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گھر فاونڈیشن کےجنرل مینیجر فرحان انصاری نے اس اعزاز کو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف پر مبنی قرار دیا۔ فاونڈیشن نے جامع کاروباری ماڈل کو انہی اہداف کے گرد مرتب کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فاونڈیشن کے قیام سے سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ تھر کے منصوبے ثمرات اور براہ راست مقامی آبادی تک پہنچیں۔ جس میں تعلیم، فنی تربیت، صحت، صاف پانی خواتین کی مالی خودمختاری کے ساتھ ساتھ خطے کے حیاتیاتی تنوع کا تحفظ جیسے شعبے شامل تھے۔
تھر فاؤنڈیشن نے 33 قائم کیے ہیں جہاں 4500 سے زائد طلبہ کو معیاری تعلیم اور ڈیجیٹل خواندگی فراہم کی جا رہی ہے، جن میں تقریباً 40 فیصد طالبات ہیں۔ گزشتہ سال فیڈرل بورڈ کے میٹرک امتحانات میں ان اسکولوں نے 100 فیصد کامیابی حاصل کی۔ مزید برآں، 2000 سے زائد نوجوانوں کو ویلڈنگ، سولرائزیشن، آئی ٹی، سلائی اور ڈریس میکنگ جیسے صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہنر سکھائے گئے ہیں۔ مٹھی میں قائم گورنمنٹ پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ (GPI) میں اس وقت 300 سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں، جن میں پہلی بار 13 خواتین بھی شامل ہیں، جہاں مائننگ، الیکٹریکل، مکینیکل اور سول انجینئرنگ کے ڈپلومہ پروگرامز جاری ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 100 طلبہ کو پاور پلانٹس کے آپریشنز اینڈ مینٹیننس (O&M) کی خصوصی تربیت کے لیے چین بھیجا گیا۔
تھر فاؤنڈیشن کی سات طبی سہولیات نے 4 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد کو مفت طبی خدمات فراہم کی ہیں، جن میں طبی مشاورت، الٹراساؤنڈ، لیبارٹری سہولیات، زچہ و بچہ کی دیکھ بھال اور ادویات شامل ہیں۔ زچہ و بچہ کی صحت کے سنگین مسائل سے نمٹنے کے لیے اسلام کوٹ کی طبی سہولت کو 50 بستروں کے ہسپتال میں توسیع دی جا رہی ہے۔
صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے 33 ریورس اوسموسس (RO) پلانٹس قائم کیے گئے ہیں، جو ماہانہ تقریباً 34 ہزار افراد کو ایک کروڑ 20 لاکھ لیٹر سے زائد صاف پانی فراہم کر رہے ہیں۔ ان میں سے 15 پلانٹس مقامی خواتین چلا رہی ہیں۔
ولیج الیکٹریفیکیشن پروجیکٹ (VEP) کے تحت 3,750 سے زائد گھروں کو بلا تعطل شمسی توانائی فراہم کی گئی ہے اور بلاک II کو مکمل طور پر سولرائز کیا جا چکا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 235 سولر اسٹریٹ لائٹس اور تقریباً 500 پِٹ لیٹرینز بھی نصب کی گئی ہیں، جس سے علاقے میں روزمرہ زندگی بہتر ہوئی ہے۔
تھر فاؤنڈیشن کے نمایاں ویمن ڈمپر ٹرک ڈرائیور پروگرام کے تحت 64 خواتین کو تربیت دے کر روزگار فراہم کیا گیا ہے، جس سے روایتی رکاوٹیں ٹوٹیں اور خواتین کو معاشی خودمختاری حاصل ہوئی۔ مزید برآں، 320 خواتین کو لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دائیوں کے طور پر تربیت دی گئی، 274 خواتین مقامی اسکولوں میں اساتذہ اور پرنسپلز کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں، جبکہ تقریباً 110 گرانٹس کے ذریعے خواتین کی زیر قیادت چھوٹے کاروباروں اور کم آمدنی والے خاندانوں کی مدد کی گئی ہے۔

