جمعہ, مئی 15, 2026
ہومبینک اور مالیاتپانڈا بانڈ مارکیٹ پاکستان کو سستے قرض ملنے کی راہموار

پانڈا بانڈ مارکیٹ پاکستان کو سستے قرض ملنے کی راہموار

تحریر ۔۔ سید رضوان عالم سینئر رپورٹر سماء ٹی وی

پاکستان کے پانڈا بانڈ نے نئی تاریخ رقم کردی۔۔۔دنیا میں کسی ملک کے امیج کو جاننا ہو تو فائنانشل مارکیٹس کی کسوٹی سے اچھا پیمانہ کوئی دوسرا نہیں ہوتا ۔۔ پاکستان کو جب جب اس کی ضرورت قرض کی عالمی منڈی میں لیکر گئی تو ہر بار عالمی سرمایہ کاروں نے اپنی شرائط پر قرض فراہمی کے معاہدے کئے لیکن اس بار یہ روایت بدل چکی ہے۔۔

عالمی سطح پر پاکستان کے تبدیل ہوتے امیج نے عالمی سرمایہ کاروں کے رویے بھی تبدیل کر دیئے ہیں۔۔ پاکستان کی جانب سے دنیا کی دوسری سب سے بڑی آف شور کیپٹل مارکیٹ میں اس بار ایسا کچھ ہوا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا ۔۔

پاکستان نے پہلی بار چائنیز کرنسی میں عالمی سرمایہ کاروں کو  پانڈا بانڈز فروخت کرنے کی پیشکش کی جس پر ایسا رسپانس آیا جو خود وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کیلئے بھی غیر متوقع تھا۔ عالمی سرمایہ کاروں نے آئی ایم ایف کی قسط کے برابر قرض آئی ایم ایف سے سستے مارک اپ پر پاکستان کو فراہم کرنے کی پیشکشں کیں ۔۔

پاکستان کو توقع سے بھی زیادہ اچھا اور تاریخی رسپانس ملا ۔۔ جس نے مستقبل میں انٹرنیشنل بانڈ مارکیٹ سے سستے اور آسان نئے قرضوں کی راہ ہموار کردی۔۔ 

پاکستان نے پہلے مرحلے میں پانڈا بانڈز فروخت کرکے پونے دو ارب یوآن جس کی امریکی ڈالر میں مالیت 25 کروڑ ڈالر بنتی ہے قرض حاصل کرلیا جس پر شرح منافع یا مارک اپ صرف 2.5 فیصد سالانہ کے حساب سے پاکستان ادا کرے گا ۔۔ یہ اب تک پاکستان کے بانڈ مارکیٹ سے تاریخ کا سب سے سستا قرض اٹھانے کا نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے۔۔

عالمی سرمایہ کاروں نے پاکستان کو پانڈا بانڈز کے عوض 8.8 ارب یوآن اور امریکی ڈالر میں 1.26 ارب ڈالر کا قرض دینے کی پیشکشیں کیں۔۔ یہ بھی اپنی جگہ ایک ریکارڈ ہے کیونکہ راقم کو وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے بتایا کہ پاکستان کو اتنی بڑی مالیت کا قرض اور تاریخ کے سب سے کم ترین مارک اپ پر ملنے کی توقع خود پاکستانی حکام کو بھی نہیں تھی اور یہ ان کیلئے ایک سرپرائز تھا ۔۔ کیونکہ پاکستانی حکام ساڑھے تین سے چار فیصد مارک اپ پر قرض ملنے کی توقع کر رہے تھے ۔۔ عالمی سرمایہ کاروں نے پاکستان کے پانڈا بانڈز خریدنے میں غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ۔۔

تین سالہ سائوورن گارنٹی کے ساتھ پانڈا بانڈ پر شرح سود ڈھائی فیصد فکس ہوگی۔۔ حکومت پاکستان نے آئندہ دو سال میں پانڈا بانڈز کی مرحلہ وار فروخت سے ایک ارب ڈالر کا قرض حاصل کرنے کا ہدف رکھا ہے ۔۔جبکہ اگلے مرحلے کے پانڈا میں مزید کمپٹیشن کے ساتھ موجودہ فروخت کو دیکھتے ہوئے اس بات کا قوی امکان ہے کہ پاکستان کو آئندہ موجودہ شرح سود سے بھی کم مارک اپ اور زیادہ مالیت کا قرض با آسانی مل سکے گا۔۔

یہاں یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ پاکستان نے جتنا قرض عالمی سرمایہ کاروں سے مانگا وہ اس سے پانچ گنا زیادہ قرض حکومت کو دینے کیلئے تیار تھے ۔۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین