لندن کے لئے براہ راست پروازوں سے پی آئی اے کے نئے مالکان کو فائدہ ہوگا۔
دی نیوز آئیز
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اسلام آباد سے برطانیہ کے شہر لندن ہیتھرو کے لیے اپنی براہِ راست پروازوں کا باقاعدہ دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔ اور پہلی پرواز مارچ 29 کو اسلام آباد سے لندن کے لئے روانہ ہوگئی ہے۔ اس سے قبل پی آئی اے برطانیہ کے شہر مانچسٹر کے لئے پہلے ہی پروازیں بحال کر چکی ہے۔ پی آئی اے کی لندن پروازیں کئی سال کی بین الاقوامی پابندیوں اور آپریشنل مشکلات کے بعد ایئرلائن کی بحالی کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس اہم روٹ کی بحالی تقریباً چھ سال بعد ممکن ہوئی ہے۔ جب 2020 کے کراچی طیارہ حادثے اور اس کے بعد عالمی فضائی پابندیوں نے قومی ایئرلائن کو شدید متاثر کیا تھا۔
دی نیوز آئیز اس رپورٹ میں لندن روٹ کی بحالی کی اہمیت خصوصاً پی آئی اے کے نئے مالکان اور ملک کے لیے اس کے فوائد کے تناظر میں جائزہ پیش کررہا ہے۔

بیرونِ ملک پاکستانیوں، تجارت اور روابط کے لیے اہم پیش رفت
لندن پی آئی اے کے لیے ہمیشہ سے ایک نہایت اہم منزل رہا ہے۔ جہاں برطانیہ میں مقیم بڑی پاکستانی کمیونٹی کو سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ روٹ تاریخی طور پر ایئرلائن کی پہلی بین الاقوامی منزل بھی رہا ہے اور آج بھی جذباتی اور معاشی اہمیت رکھتا ہے۔ اس وقت برطانیہ میں تقریبا 14 لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد افراد مقیم ہیں۔ اور یہی افراد پی آئی اے کی بڑی مارکیٹ بناتی ہے۔ براہِ راست پروازوں سے توقع ہے کہ پاکستان اور برطانیہ میں رہنے والی مقسم خاندانوں میں باہمی تعلقات استوار مذیدگہرے ہونگے،ملک کے ترسیلات زر اور کاروباری سفر میں اضافہ ہوگا اور تجارت اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔
اس حوالے سے وفاقی وزیرِ دفاع و ہوا بازی خواجہ آصف نے کہا کہ مسافر اب “آسانی کے ساتھ، وقت اور پیسے کی بچت کرتے ہوئے” سفر کر سکیں گے۔ جبکہ انہوں نے مستقبل میں یورپ، کینیڈا اور امریکہ کے لیے مزید پروازوں کے آغاز کا بھی عندیہ دیا۔
گلف ایئرلائنز کے مقابلے میں براہِ راست پروازوں کے فوائد
ماضی میں برطانیہ جانے والے پاکستانی مسافر زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ کی ایئرلائنز جیسے ایمریٹس، قطر ایئرویز اور اتحاد ایئرویز پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ جو بہتر کنیکٹیویٹی کے باعث تقریباً 60 فیصد مارکیٹ شیئر رکھتی تھیں۔ مگر پی آئی اے کو ان ایئرلائنز پر مسابقتی برتری حاصل ہے۔ اور پی آئی اے کی براہِ راست اسلام آباد–لندن پرواز کئی اہم فوائد فراہم کرتی ہے۔ جیسا کہ
کم سفر کا وقت: براہِ راست پرواز 8 سے 9 گھنٹے لیتی ہے، جبکہ گلف ممالک کے ذریعے سفر 12 سے 20 گھنٹے تک ہو سکتا ہے
کم لاگت: ٹرانزٹ ویزا، اضافی اخراجات اور ایئرپورٹ ٹیکسز سے بچت
آسانی: خاص طور پر بزرگ افراد، طلبہ اور خاندانوں کے لیے زیادہ سہولت
موجودہ عالمی صورتحال، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث، براہِ راست پروازیں مزید اہم ہو گئی ہیں کیونکہ یہ تاخیر، فضائی حدود کی بندش اور جغرافیائی خطرات سے بچاتی ہیں۔
ہیتھرو ایئر پورٹ، آمدن اور نئی ملکیت کی اہمیت
لندن ہیتھرو روٹ کی بحالی صرف علامتی نہیں بلکہ تجارتی لحاظ سے بھی انتہائی اہم ہے۔ ہیتھرو دنیا کے مصروف ترین اور منافع بخش ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے۔ اس ایئر پورٹ پر پی آئی اے کے لینڈنگ سلاٹس کو نہایت قیمتی اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان سلاٹس کی بحالی پی آئی اے کی عالمی مسابقت اور مارکیٹ پوزیشن کو مضبوط کرے گی۔
یہ پیش رفت پی آئی اے کی نجکاری کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں 2025 میں عارف حبیب کی سربراہی میں ایک کنسورشیم نے اکثریتی حصص حاصل کیے۔ لندن جیسے منافع بخش طویل فاصلے کے روٹس کی بحالی سے توقع ہے کہ ایئرلائن کی قدر میں اضافہ ہوگا، مزید سرمایہ کاری آئے گی، آمدنی میں نمایاں بہتری ہوگی۔
اس سے قبل یورپ اور برطانیہ کے روٹس کی بندش سے پی آئی اے کو سالانہ تقریباً 40 ارب روپے کا نقصان ہو رہا تھا، جو ان روٹس کی مالی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
پی آئی اے کے لیے نیا موڑ
لندن پروازوں کی بحالی پی آئی اے کی وسیع تر بحالی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس میں ریگولیٹری تقاضوں کی تکمیل، نجکاری کے بعد اصلاحات اور نیٹ ورک کی توسیع شامل ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ہیتھرو جیسے منافع بخش روٹس پر مسلسل آپریشنز ایئرلائن کو خسارے سے نکال کر ایک مستحکم عالمی ایئرلائن بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
چھ سالہ وقفہ ختم: بحران سے بحالی تک کا سفر
پی آئی اے کی بین الاقوامی پروازوں کی معطلی اس وقت شروع ہوئی جب قومی اسمبلی میں وزیرِ ہوا بازی کے ایک متنازع بیان میں پائلٹس کے لائسنسز میں بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا گیا۔ وزیر نے کہا تھا کہ بڑی تعداد میں پاکستانی پائلٹس کے پاس “مشکوک لائسنسز” ہیں۔ جوکہ بعد ازاں غلط ثابت ہوا۔
اس بیان کے بعد برطانیہ، یورپی یونین اور دیگر ممالک نے حفاظتی خدشات کے پیشِ نظر پی آئی اے پر پابندیاں عائد کر دیں، جس کے نتیجے میں ایئرلائن کا یورپی نیٹ ورک کئی سال تک معطل رہا۔
پی آئی اے کی لندن روٹ پر واپسی نہ صرف ایک تاریخی بحالی ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی تعین کرے گی کہ قومی ایئرلائن مستقبل میں عالمی مسابقتی فضائی صنعت میں کس حد تک کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔

