کراچی: پاکستان اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے سابق وائس چیئرمین محمد عدنان پراچہ کی مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے پیشِ نظر حکومتِ پاکستان اور متعلقہ حکام سے افرادی قوت کی برآمد اور ترسیلاتِ زر کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی پرزور درخواست۔
اپنے ایک بیان میں محد عدنان پراچہ نے ترسیلات بڑھانے کے حوالے سے تجاویز پیش کی ہیں۔ محمد عدنان پراچہ کا کہنا ہے کہ ان کے زریعے وہ اربابِ اختیار کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کی افرادی قوت کی برآمد کا 80 فیصد سے زائد اور زرمبادلہ کا بڑا حصہ خلیجی ممالک (سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، بحرین اور کویت) میں ملازمت کرتا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ تو جولائی 2026 سے ہماری ترسیلاتِ زر میں کمی کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ ممکنہ طور پر وطن واپس آنے والے ہزاروں محنت کشوں کی بحالی کے لیے ابھی سے ایک جامع پلان تیار کیا جائے۔
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے عملی سرمایہ کاری کے مواقع
محمد عدنان پراچہ نے مزید کہا کہ وہ حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ نئی اسکیموں کے اعلانات کے بجائے سمندر پار پاکستانیوں کو ملک کے اندر سرمایہ کاری کے لیے ایک باقاعدہ اور محفوظ پلیٹ فارم فراہم کیا جائے۔ ان گزشتہ دو سالوں میں کوئی ایسی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی جس پر اوورسیز پاکستانی اعتماد کر سکیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان اسکیموں کے حقیقی فوائد کا جائزہ لیا جائے اور محبِ وطن پاکستانیوں کے سرمائے کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
کرپشن کے خاتمے اور سسٹم کی بہتری کی استدعا
افرادی قوت کی برآمد کے مختلف مراحل میں حائل رکاوٹوں اور کرپشن کے عناصر کی نشاندہی کرتے ہوئے گزارش، کہ اس نظام کو فوری طور پر شفاف بنایا جائے۔ موجودہ حالات میں تمام ممالک اپنے دفاع کو ترجیح دے رہے ہیں، ایسی صورت میں ہمیں اپنے مین پاور بزنس کو بچانے اور اس میں اضافے کے لیے اندرونی نظام کو ہر قسم کی بدعنوانی سے پاک کرنا ہوگا۔
الحمدللہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور ہمارا دفاعی نظام ناقابلِ تسخیر ہے، لیکن ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیں موثٔر عملی اقدامات اٹھانے ہونگے۔ میری فیلڈ مارشل صاحب اور حکومت وقت سے درخواست ہے کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ہم کسی بھی عالمی بحران کا مقابلہ کر سکیں۔

