پیر, اپریل 20, 2026
ہومٹیک اینڈ ٹیلی کامایران کے خود کش ڈرون شاہد سے پریشان یورپی کمپنی نے اس...

ایران کے خود کش ڈرون شاہد سے پریشان یورپی کمپنی نے اس کا توڑ نکالنے کا دعوی کیا ہے۔

ایئربس کا اے آئی سے چلنے والا خودکار برڈ آف پری انٹرسیپٹر کی رونمائی کی ہے۔

انٹر سپیٹر نے فرانکن برگ میزائل کے ذریعے خود کش ڈرون کو تباہ کرنے کا عملی مظاہرہ کیا

میونخ، جرمنی، 30 مارچ 2026 — ایئربس کے “برڈ آف پری” انٹرسیپٹر ڈرون نے شمالی جرمنی کے ایک فوجی تربیتی علاقے میں اپنی پہلی کامیاب نمائشی پرواز مکمل کر لی۔ ایک حقیقت سے قریب مشن منظرنامے میں اس نے خودکار طور پر درمیانے سائز کے خود کش ڈرون کو تلاش کیا۔ شناخت کیا اور اس کی درجہ بندی کی۔ کامیاب شناخت کے بعد برڈ آف پری نے فرانکن برگ ٹیکنالوجیز کے تیار کردہ مارک ون  فضاء سے فضاء میں مار کرنے والے میزائل سے ہدف کو نشانہ بنایا۔

واضع رہے کہ ایران میں تیار ہونے والے شاہد ڈورن نے یورکرین روس جنگ کے بعد ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے میں ایران کو جنگ میں ایک اہم دفاعی اہمیت دلائی ہے۔ شاہد ڈورون کم قیمت ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ہدف کو تلاش کرنے شناخت کرنے اور اس کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جس کو مہنگے فضائی دفاعی نظام کے زریعے مار گرانا بہت مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ موثر بھی ثابت نہیں ہورہا ہے۔

ایئربس ڈیفنس اینڈ اسپیس کے سی ای او مائیک شوئل ہورن نے کہنا تھا کہ موجودہ جغرافیائی و عسکری حالات میں خود کش ڈرونز کے خلاف دفاع ایک فوری اور اہم ترجیح بن چکا ہے۔ ہمارا برڈ آف پری اور فرانکن برگ کے کم لاگت مارک ون میزائل مسلح افواج کو ایک مؤثر اور کم خرچ انٹرسیپٹر فراہم کرتے ہیں۔ جو جدید غیر متوازن جنگی ماحول میں ایک اہم خلا کو پُر کرتا ہے۔ برڈ آف پری کو ایئربس کے انٹیگریٹڈ بیٹل مینجمنٹ سسٹم  میں شامل کرنا دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

فرانکن برگ ٹیکنالوجیز کے سی ای او کوسٹی سالم نے کہا کہ یہ جدید فضائی دفاع کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ایئربس کے ساتھ مل کر ہم نے پہلی بار کم لاگت اور بڑے پیمانے پر تیار کیے جانے والے انٹرسیپٹر میزائل کو ایک ڈرون کے ساتھ مربوط کیا ہے، جس سے فضائی دفاع کی لاگت کا نیا معیار قائم ہوگا اور بڑے پیمانے پر فضائی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔

برڈ آف پری کی نمائشی پرواز منصوبے کے آغاز کے صرف نو ماہ بعد انجام دی گئی۔ جس میں ترمیم شدہ ایئربس کا جدید نظام نصب ہے اور یہ ڈورون 160 کلوگرام وزن کے ساتھ پرواز کرسکتا ہے۔ اس پروٹوٹائپ میں چار مارک ون میزائل نصب کئے جاسکتے ہیں۔ جبکہ اس کے آپریشنل ورژن میں آٹھ میزائل سے لیس ہوگا۔ یہ ہائی سب سونک، فائر اینڈ فورگیٹ میزائل سے ڈیڑھ کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ان کی لمبائی 65 سینٹی میٹر اور وزن 2 کلوگرام سے کم ہے۔ جو کہ اب تک کا سب سے ہلکا گائیڈڈ انٹرسیپٹرز ہے۔ ان میں فریگمینٹیشن وارہیڈ نصب ہے جو قریب فاصلے پر ہدف کو تباہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے دوبارہ قابلِ استعمال برڈ آف پری ایک ہی مشن میں متعدد خودکش ڈرونز کو کم لاگت پر تباہ کر سکتا ہے۔

برڈ آف پری کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ نیٹو کے مربوط فضائی دفاعی نظام میں ایئربس کے انٹیگریٹڈ بیٹل مینجمنٹ سسٹم  کے ذریعے باآسانی کام کر سکے۔ اس طرح یہ بغیر پائلٹ فضائی نظام امریکی فوجی نظام کا ایک اہم، متحرک اور تکمیلی حصہ بن سکتا ہے جو کسی بھی مربوط اور تہہ دار فضائی و میزائل دفاعی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔

ایئربس اور فرانکن برگ ٹیکنالوجیز 2026 کے دوران مزید پروازیں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جن میں حقیقی وارہیڈ کے ساتھ تجربات بھی شامل ہوں گے تاکہ نظام کو مزید فعال بنایا جا سکے اور ممکنہ خریداروں کو اس کی مکمل صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین