اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ موسمی شدت میں اضافے سے اس کی مانیٹری پالیسی پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں اور قیمتوں کا استحکام متاثر ہوتا ہے۔
کراچی: اسٹیٹ بینک نے موجودہ سال سال کے ششماہی جائزے میں اس حوالے سے ایک خصوصی باب تحریر کیا ہے۔ جس میں قیمتوں کے استحکام اور مانیٹری پالیسی پر اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اپنے جائزے میں اسٹیٹ بینک کا کہناہے کہ موسمیاتی دھچکوں مختلف طرح سے قیمتوں کے استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔ اور موسمی تبدیلی کے اثرات قلیل سے درمیانی مدت دونوں کے ہوسکتے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں سے افراطِ زر کے دباؤ میں اضافے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے سیلاب، بہت زیادہ یا کم درجہ حرارت یا خشک سالی سے اجناس اور مصنوعات کی ترسیل یعنی سپلائی چین کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ اورموسمی شدت سے زرعی پیداوار پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ جس سے اشیاء خورنوش کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو نقصان، تجارتی رکاوٹیں اور پالیسی اثرات بھی قیمتوں پر مختلف نوعیت کے اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ جبکہ بعض ماحولیات کے تحفظ کے لڑے بنائی گئی پالیسی جیسا کہ کاربن پرائسنگ ماحولیاتی پالیسیاں بھی معیشت میں قیمتوں کے ڈھانچے میں ساختی تبدیلیاں پیدا کرکے افراطِ زر کو بڑھا سکتی ہیں۔
تحقیقی مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت کم اور زیادہ آمدنی والے دونوں طرح کے ممالک میں مجموعی افراطِ زر پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ موسمی شدت سے افراطِ زر کے مختلف اجزاء میں خوراک کی مہنگائی سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ اور یہ مسائل ترقی غریب، ترقی پذیر اور امیر تمام ملکوں کومتاتر کرتے ہیں۔
موسمی شدت خاص طور پر درجہ حرارت میں اضافہ کی بڑی وجہ مختصر مدت میں رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔ درجہ حرارت کے منفی اثرات سے فصلوں کی پیداوار متاتر ہوتی ہے۔ جس سے قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ نے 1979 سے 2020 کے دوران پاکستان میں درجہ حرارت اور بارش کے گندم کی پیداوار کے ساتھ منفی تعلق کی نشاندہی کی ہے۔ جس کے نتیجے میں خوراک کی مہنگائی میں اضافہ ہوا۔
اسی طرح سیلاب بھی مختصر مدت میں افراطِ زر کے دباؤ کو بڑھاتے ہیں۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے اسٹیٹ بینک نے 2010 میں آنے والے سیلاب کے کی مثال پیش کی ہے۔ سال 2010 کے سیلاب کے دوران اجناس کی ترسیل (سپلائی چین) میں رکاوٹیں پیدا ہوئی جس سے کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہوگئی تھیں۔ سیلاب کے حالات سے نمٹنے کے لئے حکومتی اخراجات میں بھی اضافہ ہوا تھا۔ جس کے لئے حکومت نے بڑے پیمانے پر قرض لیا اور اس نے اسٹیٹ یینک کی مانیٹری پالیسی کی افادیت کو انتہائی کمزور کردیا۔ اس عمل کی وجہ سے اسٹیٹ بینک کو زر کی رسد اور افراطِ زر کوقابو کرنا مشکل ہوگیاتھا۔ دوسری جانب 2022 کے سیلاب کے اثرات مختصر مدت کے لئے تھے۔ مگر مختصر مدت کے اثرات کےباوجود سیلاب کے بعد کے چند ماہ میں افراطِ زر پر میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک کے عملے کے تخمینوں کے مطابق سیلاب نے قومی صارف قیمت اشاریہ کی مہنگائی میں فوری اور مثبت کردار ادا کیا۔ اسٹیٹ بینک کا تجزیہ کہتا ہے کہ درجہ حرارت کے جھٹکے طویل مدت میں مہنگائی بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں۔
موسمیاتی جھٹکے مرکزی بینکوں کے لیے مانیٹری پالیسی کے اہداف حاصل کرنے میں بھی چیلنجز پیدا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر خوراک کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مہنگائی کی توقعات کو متاثر کرتا ہے ۔ اور مرکزی بینک کی مہنگائی سے متعلق پیش گوئیوں کے لیے خطرات پیدا کرتا ہے۔ مالی سال 2023 میں یہی صورتحال دیکھنے میں آئی جب پاکستان میں 2022 کے سیلاب کے جاری اثرات شرح مبادلہ میں تبدیلی اور دیگر سپلائی جھٹکوں نے مہنگائی میں اتار چڑھاؤ بڑھایا اور اسٹیٹ بینک کو اپنی مہنگائی کی پیش گوئیوں میں نظرثانی کرنا پڑی۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات اور اثاثوں کے نقصانات کاروباری اداروں کی قرض واپسی کی صلاحیت اور بینکوں کے بیلنس شیٹس کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ قرضوں کی فراہمی محدود ہوجاتی ہے اور مانیٹری پالیسی کے اثرات متاثر ہوتے ہیں۔ یہ خطرات مرکزی بینکوں سے زیادہ احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں۔ موسمیاتی واقعات سے متعلق ڈیٹا کی محدود دستیابی، ان کی پیش گوئی کے لیے مطلوبہ مہارت، اور موسمیاتی اثرات کی منتقلی کے طریقہ کار کی شناخت اور پیمائش جیسے مسائل مناسب مانیٹری پالیسی ردعمل کی تشکیل میں بڑی رکاوٹ ہیں، جو بالآخر قیمتوں کے استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔

