بدھ, مئی 13, 2026
ہومبینک اور مالیاتاسٹیٹ بینک نے پاکستان کی معیشت کی کیفیت پر مالی سال 26ء...

اسٹیٹ بینک نے پاکستان کی معیشت کی کیفیت پر مالی سال 26ء کی ششماہی رپورٹ جاری کردی

کراچی: مالی سال 26ء کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان کی میکرو اکنامک پائیداری میں تجارت سے منسلک عالمی بے یقینی اور ملکی سیلاب کی صورت میں رکاوٹوں کے باوجود مزید استحکام آیا۔ یہ بات بینک دولتٍ پاکستان کی طرف سے پاکستان کی معیشت کی کیفیت پر آج جاری کردہ مالی سال 26ء کی ششماہی رپورٹ میں کہی گئی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میکرو اکنامک منظرنامے کے لیے بڑے خطرات کا سبب ہے، جسے بے یقینی کی بلند سطح نے گھیرا ہوا ہے۔ اس کے باعث سپلائی چین میں آنے والا خلل مہنگائی، بیرونی تجارت اور ترسیلات کے بہاؤ پر، اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں اقتصادی سرگرمیوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔

رپورٹ میں اجاگر کیا گیا ہے کہ مالی سال 26ء کی پہلی ششماہی کے دوران معاشی اظہاریوں میں خاصی بہتری آئی۔ اوسط قومی مہنگائی بلحاظِ صارف اشاریہ قیمت مزید نرم ہوگئی، جبکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے زرمبادلہ کی خریداریوں اور خالص مالی رقوم کی آمد سے بیرونی شعبے کے بفر بڑھانے میں مدد ملی۔ ان نتائج کو فراستی زری اور مالیاتی پالیسیوں، جاری ساختی اصلاحات، اجناس کی سازگار قیمتوں اور آئی ایم ایف پروگرام سے تقویت ملی۔ خصوصاً، مالی سال 26ء کی پہلی ششماہی میں اسٹیٹ بینک نے مستقبل بِین بنیادوں پر مناسب حد تک مثبت حقیقی شرح سود برقرار رکھتے ہوئے محتاط زری پالیسی جاری رکھی، جبکہ مالیاتی توازن سرپلس رہا۔ اس طرح، کلی معاشی استحکام سے نمو کی رفتار بڑھانے میں ملی۔

مالی سال 26ء کی پہلی ششماہی کے دوران حقیقی جی ڈی پی میں گذشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں دگنی رفتار سے نمو ہوئی، جسے بنیادی مہمیز صنعتی سرگرمی میں اضافے سے ملی، جس کے بعد خدمات اور زراعت کے شعبوں کی کارکردگی رہی۔ مالی سال 26ء کی پہلی ششماہی میں معاشی سرگرمی کے تحرک کا نتیجہ درآمدی حجم میں اضافے کی صورت میں نکلا۔ اس کے علاوہ چاول کی برآمدات میں خاصی کمی کا نتیجہ برآمدی آمدنی گرنے کی صورت میں نکلا۔ اس سے قطع نظر، کارکنوں کی ترسیلاتِ زر میں مستحکم اضافے نے تجارت، خدمات اور بنیادی آمدنی کے توازن میں خساروں کا ایک بڑا حصہ پورا کرنے کا سلسلہ برقرار رکھا، جس سے جاری کھاتے کا خسارہ معتدل سطح پر رکھنے میں مدد ملی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ فراست پر مبنی ملی جلی پالیسی کے تسلسل، بیرونی کھاتے کی بہتر پوزیشن اور شرحِ مبادلہ میں استحکام، اور اجناس کی سازگار عالمی قیمتوں کے علاوہ بجلی کے سرکاری نرخوں میں کمی کے نتیجے میں مالی سال 26ء کی پہلی ششماہی میں مہنگائی معتدل ہوگئی۔ مالی سال 26ء کی پہلی ششماہی میں اوسط قومی مہنگائی بلحاظِ صارف اشاریہ قیمت 5.2 فیصد رہی، جو پچھلے سال کے اسی عرصے کی نسبت تقریباً 2 فیصدی درجے کم ہے۔ رپورٹ میں اجاگر کیا گیا کہ سودی ادائیگیوں میں خاصی کمی اور مالیاتی یکجائی کے اقدامات نے مالی سال 26ء کی پہلی ششماہی میں مالیاتی توازن کو مالی سال 02ء کے بعد پہلی بار سرپلس کر دیا، جبکہ ابتدائی سرپلس گذشتہ سال کی سطح پر برقرار رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ پاکستان کے مجموعی معاشی حالات بہتر ہوئے ہیں، تاہم میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنے کے ساتھ بلند نمو کے پائیدار راستے پر گامزن ہونے کے لیے بنیادی نوعیت کی معاشی اصلاحات درکار ہیں۔ خاص طور پر دیرینہ مسائل کے حل کی ضرورت ہے، جن میں پست بچتیں اور سرمایہ کاری، کمزور مسابقت، گرتی ہوئی برآمدات، بیرونی براہ راست سرمایہ کاری میں کمی اور جی ڈی پی میں ٹیکس کا مسلسل پست تناسب شامل ہیں۔

رپورٹ میں ایک خصوصی باب بعنوان ‘ماحولیاتی تبدیلی اور پاکستان کی معیشت پر اس کے اثرات’ بھی شامل ہے، جس میں یہ بات اجاگر کی گئی ہے کہ اگرچہ گرین ہاؤس گیسوں کے عالمی اخراج میں پاکستان کا حصہ بہت قلیل ہے، تاہم یہ موسمیاتی حالات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں 15 ویں درجے پر ہے۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں بھی ہوتا ہے جو ایک طرف موسمیاتی تبدیلی کی شدید زد پر ہیں اور دوسری طرف مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کی ان کی تیاری بہت کم ہے۔ اس عدم تیاری سے ملک کی معیشت کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ مزید برآں، جی ڈی پی کے لحاظ سے پاکستان میں گیس کے اخراج کی (emissions intensity) شدت نسبتاً زیادہ ہے، جس سے ساختی نقائص اور نمو کے لیے کاربن کے اخراج پر انحصار کی عکاسی ہوتی ہے۔ بہتری کے لیے ضروری ہے کہ ضرر رساں موسمیاتی اثرات میں کمی (mitigation) کے لیے اور مطابقت (adaptation) لانے کے اقدامات پر بھاری سرمایہ کاری کی جائے، جو موسمیاتی تبدیلی پر عالمی رقوم کی کم آمد اور سرکاری و نجی شعبے کی مالیات کو درپیش چیلنجوں کے باعث بڑی حد تک حاصل نہیں ہوسکی ہے۔

مالی سال 26ء کے بقیہ منظرنامے کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلند تعدد کے اظہاریوں، بشمول پرچیزنگ منیجرز انڈیکس، بڑے پیمانے کی اشیا سازی اور تعمیرات سے متعلق تازہ ترین اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فروری 2026ء تک معاشی سرگرمیاں اپنی رفتار برقرار رکھے ہوئے تھیں، تاہم اس کے بعد جنگ کے باعث مالی سال 26ء کے باقی مہینوں میں پیداوار متاثر ہونا شروع ہوئی۔ چنانچہ، اسٹیٹ بینک کے تخمینے کے مطابق، مالی سال 26ء کی حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 3.75 تا 4.75 فیصد کے سابقہ تخمینے کی نچلے سطح کے قریب رہنے کی توقع ہے۔ معاشی سرگرمیوں میں تحرک اور اجناس کی بلند قیمتوں کے باوجود، اب جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کے صفر تا ایک فیصد کے سابقہ تخمینے کی نچلی سطح کے قریب رہنے کی توقع ہے۔ تاہم، تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے اور دیگر اجناس کی قیمتوں پر اس کے اثرات کے باعث قومی مہنگائی بلحاظِ صارف اشاریہ قیمت مالی سال 27ء کے بیشتر عرصے میں 5 تا 7 فیصد کے وسط مدتی ہدف کی بالائی حد سے اوپر رہنے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی طوالت کی صورت میں وسط مدتی معاشی منظرنامے کو درپیش کثیرالجہتی خطرات پر بھی تفصیلی بحث کی گئی ہے۔


مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین