ایس ایم ایس الرٹ خدمات کے عوض ٹیلی کام کمپنیوں کو ملک کے پانچ بڑے بینکس سالانہ تقریبا 15 ارب روپے تک ادا کرنے پر مجبور ہیںَ۔
کراچی: اسٹیٹ بینک کی جانب سے صارفین کے لئے لازمی ایس ایم ایس سروس فراہم کرنے پابندی کی وجہ سے ٹیلی کام کمپنیوں کی چاندی ہوگئی۔ بینکس صرف ایس ایم ایس الرٹ خدمات پر سالانہ اربوں روپے ٹیلی کام کمپنیوں کو ادا کررہے ہیں۔
بینکاروں نے ریگولیٹرز سے لازمی ایس ایم ایس سروس کی جگہ دیگر ڈیجیٹل زرائع استعمال کرنے کی اجازت کا مطالبہ کیا ہے۔
بینکاری زرائع نے دی نیوزآئیز کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے صارفین کو ان کی بینکاری لین دین کے حوالے سے آگاہی کے لئے ایس ایم ایس خدمات فراہم کرنا بینکوں کے لئے ایک بڑا مالی بوجھ بن گیا ہے۔ صارفین سے سالانہ فیس وصولی کے باوجود بینکس سالانہ اربوں روپے ٹیلی کام کمپنیوں کو ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
زرائع کا کہنا ہے کہ بینکاری شعبے کو ایس ایم ایس الرٹ سروسز کی لاگت میں مسلسل نمایاں اضافے کا سامنا ہے۔ اور ٹیلی کام آپریٹرز جو کہ عام صارفین کو چند پیسوں کے عوض بنڈل ایس ایم ایس کی سروسز فراہم کرتی ہیں وہ بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے فی ایس ایم ایس انتہائی بھاری نرخ وصول کررہی ہیں۔ ٹیلی کام کمپنیاں بینکوں سے فی ایس ایم ایس 3.50 سے 4 روپے تک وصول کررہی ہیں۔ ڈیجیٹل بینکاری کے فروغ کی وجہ سے بینکاری شعبے میں لین دین کا حجم بہت زیادہ بڑھ گیا ہے مگر اس حوالے سے کوئی بھی رعایت یا بنڈل آفرفراہم نہیں کی جارہی ہے۔
اگر کوئی صارف روزانہ 2 سے 3 ٹرانزیکشنز کرتا ہے اور ماہانہ 60 سے 90 ٹرانزیکشنز بنتی ہیں تو ایسے صارف پر ایس ایم ایس کی مد میں بینک کا خرچ تقریباً 180 سے 240 روپے ماہانہ یا 2,160 سے 2,880 روپے سالانہ بنتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی صارف روزانہ 10 ٹرانزیکشنز کرتا ہے تو بینک کے لیے ایس ایم ایس لاگت تقریباً 900 روپے ماہانہ یا سالانہ 10 ہزار روپے تک پہنچ جاتی ہے۔
اسٹیٹ بینک اور دیگر ریگولیٹری اور قانونی تقاضون کی وجہ سے مالیاتی ادروں اور بینکس اپنے صارفین کو ہر ڈیجیٹل سرگرمیوں پر ٹرانزیکشن الرٹس ارسال کرنے کے پابند ہیں۔ اور ضروری نہیں کہ صارف نے ایم ایس ایس الرٹ سروس سبسکرائب کی ہو یا نہ کی ہو۔ اس صورتحال میں بینکوں کے پاس مسلسل بڑھتے ہوئے ٹیلی کام اخراجات برداشت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔
ایک سینئر بینکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ان کا بینک ٹیلی کام کمپینوں کو سالانہ 3 سے 4 ارب روپے ایس ایم ایس خدمات کے لئے فراہم کرتا ہے۔ جبکہ اگر صرف پانچ بڑے بینکوں کا تخمینہ لگایا جائے تو یہ رقم 15 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
صنعتی تجزیے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ بعض بینک ایس ایم ایس الرٹ سروس سبسکرائب کرنے والے صارفین سے سالانہ 2,200 سے 3,000 روپے وصول کرتے ہیں، اس کے باوجود بینک ان سروسز پر منافع کمانے کے بجائے مالی نقصان برداشت کررہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ بینک لازمی ایس ایم ایس کمیونیکیشن سروسز کے لیے ہر سال اجتماعی طور پر ٹیلی کام کمپنیوں کو اربوں روپے ادا کرتے ہیں، جس کے باعث بینکاری صنعت میں ایس ایم ایس الرٹ چارجز میں اضافے کی بنیادی وجہ ٹیلی کام کمپنیوں کی قیمتوں کا تعین ہے۔

