کراچی: قابلِ تجدید توانائی کے شعبے سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں گرین انرجی کے فروغ اور مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کے لیے لیتھیم بیٹری سیلز پر عائد ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں نمایاں کمی کی جائے۔
پاکستان رینیوایبل انرجی ڈیولپمنٹ فورم (PREDF) کے چیئرمین عرفان اللہ والا نے کہا ہے کہ حکومت کو لیتھیم بیٹریوں کی درآمدی متبادل مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور نئے سرمایہ کاروں کو مقامی سطح پر لیتھیم بیٹریوں کی مینوفیکچرنگ کے لیے سازگار ماحول اور یکساں مواقع فراہم کرنے چاہیئے
انہوں نے انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EDB) کو لکھے گئے خط میں کہا کہ اس وقت لیتھیم بیٹریوں میں استعمال ہونے والے سیلز پر تقریباً 50 فیصد بھاری ٹیکس عائد ہے۔ جس کی وجہ سے مقامی سطح پر بیٹریوں کی اسمبلنگ میں مشکلات کا سامنہ ہے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ زیادہ ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے باعث مقامی مارکیٹ میں بیٹریوں کی قیمتیں بلند رہتی ہیں۔ جو قابلِ تجدید اور ماحول دوست توانائی کی جانب تیز رفتار منتقلی میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں۔ عوام مہنگے روایتی بجلی کے ذرائع پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے تجویز دی گئی کہ گھریلو اور تجارتی شعبوں بشمول فیکٹریوں، دفاتر، بسوں، گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور گھریلو آلات میں کم لاگت اور ماحول دوست قابلِ تجدید توانائی جیسے سولر اور ونڈ پاور کے استعمال کو فروغ دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے حکومت کو مقامی مارکیٹ میں ٹیکسز کو بھی معقول بنانا اور سرمایہ کاری کو راغب کرنا چاہیے۔
عرفان اللہ والا نے کہا کہ اس اقدام سے دو اور چار پہیوں والی گاڑیوں میں پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار نمایاں طور پر کمی ہوگی۔ جو ملک کا درآمدی بل بھی کم کرنے میں معاون ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی اسمبلرز کو ملک میں بیٹریوں کی تیاری کی ترغیب ملے گی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں بھی مدد ملے گی۔
خط کے مطابق پاکستان نے 2022 سے 2024 کے دوران تقریباً 26 ہزار میگاواٹ مالیت کے سولر پینلز درآمد کیے، جن سب کے لیے بیٹریوں کی ضرورت ہے۔ 2024 میں لیتھیم آئن بیٹریوں کی درآمدات 1.25 گیگا واٹ آور (GWh) تک پہنچ گئیں جبکہ 2025 میں یہ بڑھ کر 2.5 سے 3 گیگا واٹ آور تک جانے کا امکان ہے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ سستی قیمتوں پر لیتھیم بیٹریوں کی دستیابی ملک بھر میں توانائی سے پیدا ہونے والی مہنگائی کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد دے گی اور مقامی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملے گا۔

