پیٹرول مہنگا ہونے سے صارفین 600 سی سی اور ہائبرڈ گاڑیوں کی طرف مائل ہورہے ہیں۔
کراچیَ، مارچ 26: عالمی سطح پر ایندھن کی قیمت میں ہوش ربا اضافے کی وجہ سے پاکستان میں بھی ایندھن مہنگا ہوگیا ہے۔ اس وجہ سے عوام میں کم ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں کی طلب میں اضافہ ہوگیا ہے۔ گاڑیوں کے حوالے سے ویب سائٹس سی گل موٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2026 کے رجحانات کے مطابق، چھوٹے انجن والی گاڑیاں خاص طور پر 660 سی سی کاریں کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں، جہاں روزمرہ سفر کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔
کم ایندھن استعمال کے حوالے سے سوزوکی آلٹو سب سے آگے ہے، جو تقریباً 18 سے 22 کلومیٹر فی لیٹر کا اوسط دیتی ہے۔ اس کے علاوہ اس آلٹو کی کم قیمت کم دیکھ بھال اور سستے فاضل پرزہ جات کی آسان دستیابی اسے مارکیٹ میں مزید بہترانتخاب کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔
اس کے بعد جاپانی درآمد شدہ ری کنڈیشن کاریں صارفین کی توجہ حاصل کررہی ہیں۔ جاپان سے استعمال شدہ ڈائی ہاٹسو میرا اور نسان ڈیز بھی مقبول ہو رہی ہیں، جو ایندھن کی بچت کے ساتھ جدید فیچرز بھی فراہم کرتی ہیں۔ خاص طور پر میرا اپنیجدیدٹیکنالوجی کے ساتھ 35 کلومیٹر فی لیٹر تک مائلیج دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو اسے پاکستان کی سب سے زیادہ فیول ایفیشنٹ گاڑیوں میں شامل کرتی ہے۔
سوزوکی ویگن آر ہے جو کہ ایک ہزار سی سی انجن کارکردگی اور ایندھن کی بچت میں ایک توازن فراہم کرتی ہے۔ اس کی آپریٹنگ لاگت اوسطا 14 سے 18 کلومیٹر فی لیٹر ہے۔ یہ گاڑی ان صارفین کے لیے موزوں ہے جو شہر کے ساتھ ساتھ بین الاضلاعی سفر میں بھی استعمال ہوتی ہے۔
پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث خریدار اب گاڑی خریدتے وقت صرف قیمت نہیں بلکہ اس کے طویل مدتی اخراجات کو بھی مدنظر رکھ رہے ہیں۔ خاص طور پر متوسط طبقہ اب مہنگی گاڑیوں کے بجائے کم ایندھن خرچ کرنے والی گاڑیوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
گاڑیوں کے ڈیلر کے مطابق فیول ایفیشنسی اب ایک سہولت نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ہے اور بہت سے لوگ اخراجات کم کرنے کے لیے سیڈان گاڑیوں سے چھوٹی کارون کی جانب منتقل ہورہے ہیں۔
فیول ایفیشنٹ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ شہری ٹرانسپورٹ کے بدلتے رجحانات کی عکاسی کرتی ہے۔ بڑے شہروں میں ٹریفک کے مسائل کے باعث چھوٹی اور ہلکی گاڑیاں زیادہ موزوں سمجھی جا رہی ہیں کیونکہ یہ رش میں بہتر مائلیج دیتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو مستقبل میں پاکستان میں ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں بھی نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

