پیر, اپریل 20, 2026
ہومآٹوموبلفی کلو میٹر کم آپریٹنگ لاگت کی وجہ سے عوام میں الیکٹرک...

فی کلو میٹر کم آپریٹنگ لاگت کی وجہ سے عوام میں الیکٹرک بائیکس کی طلب میں اضافہ ہورہا ہے۔

الیکٹرک اسکوٹر کی لاگت صرف 1 سے 2 روپے فی کلومیٹر، پیٹرول بائیکس 4 سے 10روپے تک مہنگی ہے

کراچی مارچ 26، 2026: عالمی سطح پر ایندھن مہنگا ہونے کی وجہ سے پاکستان میں بھی پیٹرول مہنگا ہوگیا ہے۔ ایندھن کی قیمت میں اس اضافے کی وجہ عام شہریوں کے سفری اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں الیکٹرک بائیکس اور اسکوٹرز جیسے سستے اور مؤثر متبادل کے طور پر تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔

سیگل موٹرز ویب سائٹ کے حالیہ تقابلی جائزے کے مطابق، الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی فی کلومیٹر لاگت نمایاں طور پر کم ہے، جو صرف 1 سے 2 روپے کے درمیان ہے۔ اس کے برعکس، پیٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکلوں کی لاگت 4 سے 10 روپے فی کلومیٹر تک پہنچ چکی ہے، جو صارفین کے بجٹ پر اضافی دباؤ ڈال رہی ہے۔

الیکٹرک بمقابلہ پیٹرول: لاگت میں واضح فرق

الیکٹرک اسکوٹرز بجلی پر چلتے ہیں، جہاں ایک مکمل چارج کی لاگت تقریباً 100 سے 150 روپے ہوتی ہے اور یہ 70 سے 100 کلومیٹر تک سفر فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح یہ روزانہ سفر کرنے والوں کے لیے نہایت سستا آپشن بن جاتے ہیں۔

دوسری جانب، پیٹرول بائیکس چاہے وہ 70سی سی ہوں یا 150 سی سی بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں کے باعث الیکٹرک موٹر سائیکل سے زیادہ مہنگی ثابت ہو رہی ہیں۔ کم فیول ایوریج اور مہنگے پیٹرول کے امتزاج نے ان کی فی کلومیٹر لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق، بڑھتی مہنگائی اور غیر یقینی پیٹرول قیمتوں نے صارفین کو طویل مدتی اخراجات پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہری علاقوں میں خاص طور پر نوجوان اور روزانہ سفر کرنے والے افراد الیکٹرک بائیکس کی طرف تیزی سے مائل ہو رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پیٹرول کی قیمتوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ مزید بڑھے گی۔ کم لاگت، سستی دیکھ بھال اور ماحول دوست خصوصیات الیکٹرک بائیکس کو مستقبل کا اہم ذریعہ نقل و حمل سمجھی جارہی ہیں۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین