اسلام آباد: سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ٹی+1 سیٹلمنٹ سائیکل پر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ مشاورتی عمل میں ٹی+1 کے نفاذ میں درپیش چیلنجز کی نشاندہی اور اس کے مارکیٹ لیکویڈیٹی، سرمایہ کاروں کی شرکت، آپریشنل تیاری اور بڑھتی ہوئی سرمایہ جاتی ضروریات پر اثرات کا جائزہ لے گا۔
واضح رہے کہ ٹریڈنگ کی سیٹلمنٹ کے لیے ٹی+1 ایک عالمی بہترین طریقہ کار ہے۔ تاہم، مقامی تناظر میں اسٹیک ہولڈرز نے بعض آپریشنل چیلنجز کی نشاندہی کی ہے۔ رمضان کے دوران محدود بینکنگ اوقات اور چیک کلیئرنس میں تاخیر کے باعث ٹریڈنگ کی فنڈنگ میں عدم توازن پیدا ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں بروکرز کو فوری طور پر لیکویڈیٹی کو اپنی ذمہ داری پر پورا کرنا پڑتا ہے۔ ایک دن پر مبنی سیٹلمنٹ کا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ماحول میں زیادہ مؤثر ہوتا ہے، جبکہ پاکستان میں چیک پر مبنی لین دین اور موجودہ بینکنگ کٹ آف اوقات ٹی+1 نظام کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہیں۔
اس مشاورت کا مقصد اصلاحات کو جامع بنانا اور سرمایہ کاروں و مارکیٹ کے شرکاء کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی بھی اقدام مارکیٹ کے استحکام اور کارکردگی کے لیے معاون ہو۔ اس دوران ایس ای سی پی نے مختلف اسٹیک ہولڈرز سے موصول ہونے والی آراء کا بھی جائزہ لے چکا ہے۔
عالمی سطح پر متعدد بڑی اسٹاک مارکیٹیں کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ایک کی کی سیٹلمنٹ سائیکلز کی طرف منتقل ہو چکی ہیں۔ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو نے 2024 میں ٹی+1 سیٹلمنٹ لاگو کر دیا تھا۔ اسی طرح چین برطانیہ اور یورپی یونین سمیت دیگر بڑی مارکیٹیں بھی ٹی+1 کی طرف منتقلی کے عمل میں ہیں۔
ایس ای سی پی اس سلسلے میں سٹاک مارکیٹ کے اداروں ، جن میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج، سینٹرل ڈپازٹری کمپنی ، نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان ، اسٹاک بروکرز، میوچل فنڈز اور کسٹوڈین ادارے کے ساتھ مشاورت ایک جامع اور مربوط روڈ میپ تیار کرے گا ۔
مزید ازں، موجودہ عالمی حالات، خطے میں جاری تنازعات اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور لیکویڈیٹی کے دباؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایسے میں ٹی+1 جیسے اقدامات کے کامیاب نفاذ کے لیے متوازن اور مشاورتی انداز اپنانا ناگزیر ہے تاکہ مارکیٹ میں استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے آپریشنل مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکے۔

