سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن نے عوامی پیشکش کے قوانین میں تبدیلی کی سفارش کردی
اسلام آباد، 18 مارچ: سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ایسوسی ایشن آف پرسنز (AoPs)، پارٹنرشپس اور لمیٹڈ لائیبلٹی پارٹنرشپس (LLPs) کے طور پر کام کرنے والے کاروباروں کے لیے اسٹاک مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے پبلک آفرنگ ریگولیشنز میں ترامیم کی تجویز دی ہے۔
مجوزہ ترامیم کے تحت ایسے کاروبار، جب کمپنی کے طور پر رجسٹر ہوں گے، تو وہ اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ کے لیے درخواست دیتے وقت اپنی سابقہ کاروباری اور مالی کارکردگی کو استعمال کر سکیں گے۔ اس سلسلے میں مجوزہ ترامیم کو عوامی مشاورت کے لیے ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر جاری کر دیا گیا ہے۔
اس اقدام سے نجی کاروباروں کے لیے مارکیٹ میں داخلے کی رکاوٹیں کم ہوں گی اور مستحکم اداروں کو توسیع کے لیے سرمایہ حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔ اس سے پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کو بھی فروغ ملے گا۔
موجودہ قوانین کے مطابق، کسی کمپنی کے لیے پبلک آفر سے قبل کم از کم دو سال کا منافع بخش ریکارڈ ظاہر کرنا ضروری ہے۔ مجوزہ ترامیم کے تحت ایسی پارٹنرشپس، جو بعد میں کمپنی کے طور پر رجسٹر ہوں، کو اجازت ہوگی کہ وہ اپنی سابقہ مدت کا مالی اور کاروباری ریکارڈ اس مقصد کے لیے استعمال کر سکیں، بشرطیکہ مقررہ شرائط پوری کی جائیں۔
سرمایہ کاروں کے تحفظ اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے، ان اداروں کے مالیاتی گوشوارے کمپنیوں پر لاگو اکاؤنٹنگ اور انکشاف کے اصولوں کے مطابق تیار کیے جائیں گے۔ ان کا آڈٹ بھی کوالٹی کنٹرول ریویو (QCR) سے منظور شدہ آڈیٹر سے کرانا لازمی ہوگا۔
یہ اقدام شراکت داری پر مبنی کاروباروں کو کارپوریٹ ڈھانچے میں لانے اور انہیں باضابطہ کیپٹل مارکیٹ کا حصہ بنانے میں مدد دے گا۔
پبلک آفرنگ ریگولیشنز 2017 میں مجوزہ ترامیم عوامی مشاورت کے لیے ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ اسٹیک ہولڈرز اور مارکیٹ کے شرکاء اپنی آراء 14 دن کے اندر کمیشن کو ارسال کر سکتے ہیں۔

