کیماوی کھاد کے ڈیلرز نے اضافی فرٹیلائزر خرید کر ذخیرہ کر لی ہے۔
ایف ایف سی اور اینگرو کی فروخت میں منافع میں اضافہ ہوا جبکہ فاطمہ فرٹیلائزر کی فروخت اور منافع میں گراوٹ دیکھی گئی۔
کراچی: ایران پر امریکی اور اسرائیل کے حملے کے بعد مشرق وسطی میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے ایندھن کے ساتھ ساتھ کمیاوی کھاد کی ترسیل بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ اور یہ امکانات سر اٹھا رہے ہیں کہ کمیاوی کھاد کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔ انہی امکانات کے پیش نظر کھاد کے ڈیلرز نے ملک میں تیار ہونے والی کمیاوی کھادوں کو خرید کر ذخیرہ کر لیا ہے۔ اس ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے فرٹیلائزر کمپنیوں کے نفع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اے کے ڈی سکیورٹیز کی جانب سے جاری کردہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران کمیاوی کھاد کے ڈیلرزنے پیشگی خریداری کی ہے۔ جس سے فرٹیلائزکمپنیوں کےمنافع میں اضافہ سالانہ بنیادوں پر 9 فیصد اضافے کے ساتھ 59 ارب 40 کروڑ روپے ہوگیا ہے۔ ایف ایف سی اور اینگروفرٹیلائز کے منافع میں بہتری ہوئی جبکہ فاطمہ فرٹیلائزر نفع میں کمی دیکھی گئی۔ اگر فاطمہ فرٹیلائز کے نقصانات کو الگ کردیں تو سیکٹر کا منافع میں 29 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
فرٹیلائزکمپنیوں کی فروخت میں یوریا کا عنصر ہمیشہ کی طرح غالب رہا۔ ایف ایف سی نے سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران فروخت 12 فیصد زیادہ یوریا فروخت کی اور اس کی مجموعی یوریا کی فروخت 602 سو ٹن رہی جبکہ اینگرو فرٹیلائزر کی یوریا فروخت 7 فیصد اضافے کے بعد 279 ہزار ٹن رہی۔ جبکہ فاطمہ فرٹیلائزیوریا کی فروخت 59 فیصد گراوٹ کے بعد 87 ہزار ٹن رہی۔
اسی طرح ڈی اے پی کی فروخت میں ایف ایف سی نے گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے دگنی فروخت کی اور ایف ایف سی نے 182 ہزار ٹن ڈی اے پی فروخت کی۔ اینگرو فرٹیلائزر کی ڈی اے پی فروخت 64 فیصد بڑھ کر 40 ہزار ٹن رہی۔ فاطمہ فرٹیلائزر کی این پی کھاد کی فروخت 30 فیصد بڑھ کر 169 ٹن تک پہنچ گئی۔ اسی کے ساتھ ساتھ فاطمہ کی کین کی فروخت 30 فیصد کم ہوکر 126 ٹن رہ گئی۔
ڈیلرز کی جانب سے جلدبازی میں خریداری کی وجہ سے فرٹیلائزر سیکٹر کی مجموعی فروخت میں 23 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ 179ارب 90 کروڑ روپے ہوگئی جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ 145 ارب سے زائد تھی۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے کمپنیوں کے ڈسٹری بیوشن کے اخراجات میں اضافہ ہوا۔جس سے آپریٹنگ لاگت 7 فیصد بڑھ کر 14 ارب روپے سے زائد رہی۔

