پیر, جون 1, 2026
ہومشہری ہوابازیامریکا اور ایران میں جنگ بندی کے باوجود فضائی سفر مکمل طورپر...

امریکا اور ایران میں جنگ بندی کے باوجود فضائی سفر مکمل طورپر بحال نہ ہوسکا، ایاٹا  

مشرق وسطی کی ایئرلائنز کے نقصانات اپریل میں بھی جاری رہے

جنیوا: امریکا اور ایران میں اپریل کے دوران جنگ بندی کے باوجود فضائی سفربحال نہ ہوسکا جنگ کے بعد کے غیر یقینی حالات اور طیاروں کے ایندھن کے مہنگا ہونے سے فضائی سفر کی طلب نہ صرف مشرق وسطی میں کم رہی بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی اس کے نمایاں اثرات دیکھے گئے۔

ایاٹا کے مطابق اپریل کے دوران گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں بین القوامی اور ڈومسٹک فضائی سفر کی طلب ریونیو فی مسافر میں 3.4  فیصد اور دستاب فضائی نشتوں میں 2.9 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔

ایاٹا کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مسافروں کی طلب اپریل 2025 کے مقابلے میں 5.3  فیصد کم رہی۔ تاہم مشرق وسطیٰ کو شامل نہ کیا جائے تو طلب میں 1.9  فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

ایشیا پیسیفک افریقا، لاطینی امریکا اور یورپ میں فضائی سفر میں اضافہ دیکھا گیا۔ شمالی امریکا میں فضائی سفر مستحکم رہا جبکہ مشرق وسطی میں فضائی سفر میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اپریل کے دوران مشرق وسطی میں فضائی سفر کی طلب میں 48.1  فیصد، گنجائش میں 38.4  فیصد  اور لوڈ فیکٹر70.1  فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔

ایاٹا کا کہناہے کہ  مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث وہاں کی ایئرلائنز کی طلب میں 46.6 فیصد کمی اتنی شدید تھی کہ اس نے عالمی سطح پر مجموعی طلب کو 3.4 فیصد نیچے دھکیل دیا۔ فضائی نقل و حمل کی صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔

اپریل میں جیٹ فیول کی قیمت دوگنا سے بھی زیادہ بڑھ گئی جس کے باعث فضائی کرایوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آئندہ مہینوں کے شیڈول ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ پروازوں کی پیشکش میں کمی آئے گی جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایئرلائنز بڑھتے ہوئے ایندھن کے اخراجات اور کمزور طلب کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین