وفاقی حکومت نے میرا گھر آشیانہ اسکیم میں قرض کی حد ایک کروڑ روپے کردی ہے
کراچی (3 مارچ 2026) ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے ”میرا گھر میرا آشیانہ“ اسکیم میں قرض کی رقم میں نمایاں اضافے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام ملک میں رہائشی منصوبوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے اور تعمیراتی شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔انھوں نے کہا کہ آشیا نہ اسکیم کے لیے قرض کی حد 35 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنا عوام کے لیے امید کی نئی کرن ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف اپنے گھر کا خواب دیکھنے والے ہزاروں خاندان مستفید ہوں گے بلکہ ملک میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے اور مجموعی معاشی سرگرمیوں میں بھی تیزی آئے گی۔چیئرمین آباد کا کہنا تھا کہ تعمیراتی شعبہ کسی بھی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اس شعبے کی سرگرمیوں سے براہِ راست اور بالواسطہ طور پر 72 سے زائد صنعتیں وابستہ ہیں۔ جب تعمیراتی کاموں میں تیزی آتی ہے تو سیمنٹ، سریا، ٹائلز، پینٹ، الیکٹرک سامان اور دیگر متعلقہ صنعتوں کا پہیہ بھی چل پڑتا ہے، جس سے معیشت کے مختلف شعبوں میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔انھوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تعمیراتی شعبے کا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں حصہ اس وقت تقریباً 2.3 فیصد ہے۔ اگر حکومتی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے اور تعمیراتی شعبے کو سہولیات فراہم کی جائیں تو اس کا حصہ 10 سے 12 گنا تک بڑھایا جا سکتا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے انتہائی مثبت پیش رفت ہوگی۔محمد حسن بخشی نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت آئندہ بھی ہاؤسنگ سیکٹر کے فروغ کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی تاکہ عام آدمی کے لیے گھر کی فراہمی کا خواب حقیقت کا روپ دھار سکے اور ملک میں پائیدار معاشی ترقی کی راہ ہموار ہو۔

