تحریر: مشہود علی خان
پاکستان کا موجودہ آئی ایم ایف سے قرض اور معاشی اصلاحات کا پروگرام ایک طرف تو بات کرتا ہے ملک میں معاشی بحالی کی مگر عالمی فنڈ ایسی شرائط مسلط کررہا ہے جو کہ ملکی آٹو انڈسٹری کو تبدریج درآمدات پرمنتقل کردے گی۔ آئی ایم ایف کی ان شرائط کی وجہ سے طویل المدتی صنعتی ترقی تو ایک طرف موجودہ آٹوانڈسٹریز کا قائم رہنا بھی مشکل ہوجائے گا۔ ایسی پالیسیاں قلیل مدت میں معاشی استحکام فراہم کرسکتی ہیں۔ مگر مقامی مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی کی ترقی اور روزگار کے مواقع کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
عالمی فنڈ نے حکومت سے آٹو پالیسی میں جو تبدیلیوں کی شرائط رکھی ہیں اس سے یہ سیکٹرایک مضبوط مقامی مینوفیکچرنگ بیس میں تبدیل ہونے کے بجائے تیزی سے اسمبلنگ پر مبنی ماڈل کی طرف بڑھ جائے گا۔ ماحول دوست گاڑیوں یعنی ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (HEVs)، پلگ اِن ہائبرڈز (PHEVs) اور بیٹری الیکٹرک وہیکلز (BEVs) کی طلب بڑھ رہی ہے۔ جو اہم کیٹیگریز میں سالانہ 35 ہزار سے 40 ہزار یونٹس تک پہنچ چکی ہے۔ یہ طلب زیادہ تر درآمد شدہ CKD اور SKD کٹس کے ذریعے پوری کی جا رہی ہے۔ اس رجحان سے مقامی ویلیو ایڈیشن کم ہو رہا ہے اور پاکستان کے صنعتی نظام خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs)، کی ترقی محدود ہو رہی ہے۔ یہ چھوٹے صنعتی یونٹس ملک بھر میں لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔
چین کی مثال پالیسی کے فرق کو واضح کرتی ہے۔ چینی آٹو انڈسٹری کی کامیابی بار بار نئے ماڈلز متعارف کرانے پر نہیں بلکہ گہری لوکلائزیشن، بڑے پیمانے پر پیداوار اور مضبوط حکومتی صنعتی پالیسی پر مبنی ہے۔ گاڑیوں کے چینی برانڈز 70 سے 90 فیصد مقامی سطح پر پرزہ جات تیار کرتے ہیں۔ اور ملک کے اندرایک مضبوط وینڈر نیٹ ورک اور عمودی انضمام کے ذریعے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
اس کے برعکس، پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران لوکلائزیشن کی شرح جمود کا شکار رہی ہے۔ نئے آنے والے آٹو مینوفیکچررز (OEMs) نے پالیسی وعدوں کے باوجود زیادہ تر CKD/SKD درآمدات پر انحصار کیا اور رعایتی ٹیرف سے فائدہ اٹھایا ہے۔ مگر مقامی سپلائی چین میں خاطر خواہ سرمایہ کاری نہیں کی۔ کئی معاملات میں پرزہ جات مختلف ایچ ایس کوڈز کے تحت درآمد کیے گئے تاکہ ڈیوٹیز کم کی جا سکیں، جس سے لوکلائزیشن پالیسیوں کی روح متاثر ہوئی۔
یہ طرز عمل نہ صرف صنعتی پالیسی کو کمزور کرتا ہے بلکہ مقامی آٹو پارٹس مینوفیکچررز کی بقا کے لیے بھی خطرہ بن رہا ہے جن میں سے کئی گزشتہ تین دہائیوں سے اس شعبے کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ ایس ایم ای انڈسٹری کی توسیع کے ساتھ ترقی کی امید رکھتے تھے۔ اب کم ہوتی طلب، گھٹتی پیداوار اور محدود تکنیکی ترقی کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس صورتحال میں حکومت کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ پالیسیوں میں عدم تسلسل، کمزور عمل درآمد اور جوابدہی کے بغیر مراعات جاری رکھنے سے موجودہ عدم توازن پیدا ہوا ہے۔ چونکہ نئی آٹو پالیسی زیر غور ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ماضی کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تاکہ پرانی غلطیوں کو دہرایا نہ جائے۔
اہم اصلاحات میں شامل ہونا چاہیے:
CKD/SKD ڈھانچے کی واضح تعریف اور سخت نگرانی
مقررہ مدت کے اندر لوکلائزیشن اہداف پر عمل درآمد
مراعات کو حقیقی ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور مقامی سرمایہ کاری سے مشروط کرنا
مقامی آٹو پارٹس مینوفیکچررز کی سرپرستی اور معاونت
اگر بروقت اور فیصلہ کن اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان اپنی انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ بنیاد کھو سکتا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، اور ملک درآمدات اور بیرونی مالی انحصار کے چکر میں پھنسا رہ سکتا ہے۔
جیسا کہ انجینئرنگ کے اصولوں میں کہا جاتا ہے:اگر آپ کسی چیز کی پیمائش کر سکتے ہیں تو آپ اسے بہتر بھی بنا سکتے ہیں

