بدھ, مئی 13, 2026
ہومبزنساسٹیٹ لائف نے 152 ارب روپے کے ریکارڈ بونس کا اعلان کر...

اسٹیٹ لائف نے 152 ارب روپے کے ریکارڈ بونس کا اعلان کر دیا، ادارے کی مالیاتی ترقی اور پالیسی ہولڈرز کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے لائف انشورنس ادارے کے بونس میں 120 فیصد اضافہ، مالیاتی تحفظ اور بچت کے شعبے میں مستحکم

پانچ سالہ کارکردگی کے دوران اثاثوں میں نمایاں اضافہ، بڑھتے ہوئے پریمیم اور سماجی اثرات کے وسیع اقدامات نمایاں

اسلام آباد: اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان نے اپنے پالیسی ہولڈرز کے لیے 152 ارب روپے کے ریکارڈ بونس کا باضابطہ اعلان کیا ہے، جو کہ ایک ایسی تاریخی کامیابی ہے جو کارپوریشن کی مالی مضبوطی اور اپنے صارفین کو طویل مدتی فائدہ پہنچانے کے غیر متزلزل عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ اس خطیر رقم میں 129.579 ارب روپے کا سالانہ منافع بخش بونس اور 22.12 ارب روپے کا خصوصی ‘اسٹیٹ لائف خوشحالی بونس’ شامل ہے۔ بونس کی یہ مجموعی رقم گزشتہ سال کے مقابلے میں 120 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے سالانہ شرح نمو 27 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ جو ملکی معیشت میں کارپوریشن کے کلیدی کردار کی عکاسی کرتی ہے۔

 اسٹیٹ لائف کے پانچ سالوں کے جاری کردہ حسابات کے مطابق کمپنی کے منافع کا 97.5 فیصد حصہ براہ راست پالیسی ہولڈرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔  ایسے وقت میں جب افراطِ زر اور معاشی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے بچت کے روایتی ذرائع دباؤ کا شکار ہیں، اسٹیٹ لائف حکام کا دعوی ہے کہ عوامی اعتماد کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ اعلان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام تحفظ اور بچت کے لیے اس ادارے کو ایک محفوظ ترین مقام تسلیم کرتے ہیں۔

گزشتہ پانچ سالوں (2021 تا 2025) کے دوران کارپوریشن کی مالیاتی کارکردگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ غیر آڈٹ شدہ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی اثاثے 111 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 2.5 ٹریلین روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ اسی عرصے میں مجموعی پریمیم آمدنی میں 141 فیصد جبکہ سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی میں 236 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نئے بزنس پریمیم میں 455 فیصد اضافہ ہوا، جو مالی تحفظ کے لیے نئے صارفین کی بڑی تعداد کی شمولیت کو ظاہر کرتا ہے۔ صرف سال 2025 میں کارپوریشن نے 236 ارب روپے کے کلیمز کی ادائیگی کی، جو اس کی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بھرپور صلاحیت کا ثبوت ہے۔

مالیاتی اہداف کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ لائف نے سماجی تحفظ کے شعبے میں بھی اپنے دائرہ کار کو وسیع کیا ہے۔ ادارے کا فلیگ شپ ‘سوشل ہیلتھ پروگرام’ اب 18 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کو صحت کی سہولیات فراہم کر رہا ہے، جو ملک کی تاریخ میں صحت کے تحفظ کے بڑے اقدامات میں سے ایک ہے۔ کارپوریشن کا روایتی انشورنس سے نکل کر سماجی بہبود کے شراکت دار بننے کا سفر ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ESG) کے معیارات پر مبنی ہے۔ حالیہ اقدامات میں 2 کروڑ سے زائد پالیسی فائلوں کی ڈیجیٹلائزیشن، 64 ہزار سے زائد درختوں کی شجرکاری اور آپریشنز میں شمسی توانائی کا استعمال شامل ہے۔ عوامی صحت کے لیے ملک بھر میں ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد خواتین کی بریسٹ کینسر اسکریننگ اور ایک لاکھ 85 ہزار شہریوں کے ذیابیطس کے ٹیسٹ بھی کیے گئے ہیں۔

سال 2026 کے بقیہ مہینوں کے لیے کارپوریشن ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے اور مزید جامع مالیاتی مصنوعات متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ آنے والے سال کی ترجیحات میں ریٹائرمنٹ اور پنشن اسکیموں کی توسیع شامل ہے، جس میں پاکستان کا پہلا شریعہ کمپلائنٹ (شرعی اصولوں کے مطابق) پنشن پلان بھی متعارف کرایا جائے گا۔ قیادت مائیکرو انشورنس کے دائرہ کار کو بڑھانے اور صارفین کے لیے ڈیٹا پر مبنی ڈیجیٹل سروسز کو بہتر بنانے کے لیے بھی کوشاں ہے۔

ان ریکارڈ نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے اسٹیٹ لائف کے سی ای او شعیب جاوید حسین نے اس بات پر زور دیا کہ "یقین دہانی باتوں سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت کی جاتی ہے”۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی ہولڈرز کے لیے یہ ریکارڈ بونس کارپوریشن کے نظم و ضبط اور مالی غیر یقینی کے دور میں حقیقی قدر فراہم کرنے کے مشن کا عکاس ہے۔ ریکارڈ ادائیگیوں اور وسیع تر سماجی اثرات کے ساتھ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن پاکستان کے مالیاتی تحفظ کے ڈھانچے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکی ہے، جو ملک بھر کے لاکھوں خاندانوں کے لیے جدت اور بہتر تحفظ کے مستقبل کی نوید ہے۔

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین