پاکستانی ایئرلائنز کو بھی ایندھن مہنگا ہونے اور پرازوں کو متبادل روٹ استعمال کرنے سے مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں اور ایران کی جانب سے خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی وجہ سے ہوابازی کی صنعت بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ اس جنگ نے عالمی فضائی صنعت شدید بحران کا شکار کردیا ہے۔ جس کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ اس بحران کے نتیجے میں عالمی سطح پر ایئرلائنز کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے، جبکہ جیٹ فیول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود کی بندش نے فضائی آپریشنز کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ملک کی فضائی پروازیں خلیجی خطے سے گزرتی ہیں۔ ایران اور دیگر خلیجی ممالک کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث بین الاقوامی پروازوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے ایندھن کی کھپت اور آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی اخراجات بالآخر مسافروں پر زیادہ کرایوں کی صورت میں منتقل کیے جا رہے ہیں۔
ایوی ایشن فیول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ پاکستان کی ایئرلائنز کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق جیٹ فیول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ایئرلائنز کو اپنے شیڈول کم کرنے اور کرایوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
مزید برآں، آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کے لیے درآمدی ایندھن مہنگا ہو گیا ہے، جس سے نہ صرف ایوی ایشن سیکٹر بلکہ مجموعی معیشت پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے، اس لیے یہ بحران ملک کے تجارتی خسارے اور مہنگائی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
مجموعی طور پر، ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والا یہ عالمی فضائی بحران پاکستان کی فضائی صنعت، مسافروں اور معیشت تینوں کے لیے سنگین چیلنج بنتا جا رہا ہے، اور اگر صورتحال طویل ہوئی تو اس کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔

