فضائی سفر میں اضافہ ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں شہری ہوابازی میں سب سے زیادہ اضافہ ہوگا۔ ایاٹا
ابادی میں کمی کی وجہ سے یورپ اور امریکا میں فضائی سفرکی ترقی ایشیا اور افریقا کے مقابلے کم رہے گی۔
جنیوا: شہری ہوابازی کی عالمی تنظیم ایاٹا نے پیش گوئی کی ہے کہ عالمی ہوا بازی کے شعبے اس صدی کے نصف تک تیز رفتار ترقی متوقع ہے۔ اور سال 2050 تک فضائی مسافروں کی طلب دوگنی سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ ایاٹا کی طویل مدتی طلب کی پیش گوئی سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2050 تک فضائی سفر میں سالانہ 3.1 فیصد سالانہ کی شرح سے اضافہ متوقع ہے۔
ایاٹا کے ڈائریکٹر جنرل ویلی والش کا کہنا ہے کہ فضائی سفر کے حوالے سے دلچسپی میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ آنے والے سالوں میں فضائی سفر کی طلب میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ جس سے شہری ہوابازی میں معاشی ترقی، نئے روزگار کے مواقع اور عالمی رابطوں میں اضافہ ہوگا
یورپی اور امریکی منڈیوں کے بجائے ایشیائی اور افریقی ملکوں میں فضائی سفر میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہوگا۔ ایشیا پیسیفک میں 3.8 فیصد اور افریقہ میں 3.6 فیصد کی شرح سے مسافروں کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ مارکیٹس جیسا کہ یورپ اور امریکہ ترقی کی شرح نسبتاً سست رفتار ترقی کرے گی۔ جس کی بڑی وجہ آبادی میں کم اضافہ ہے۔ کیونکہ ایوی ایشن کی طلب کا تعلق جی ڈی پی گروتھ، آبادی کے رجحانات اور عالمی رابطوں سے ہے،
رپورٹ میں براعظم افریقہ کے اندر، افریقہ اور ایشیا پیسیفک، ایشیا پیسیفک سے مشرق وسطیٰ کے درمیان فضائی سفر میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔ ان ممالک میں ایوی ایشن انفراسٹرکچر، ریگولیٹری ہم آہنگی اور مارکیٹ تک رسائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔
ایاٹا کا کہنا ہے کہ کورونا کے بعد فضائی سفر میں ایک ساختی تبدیلی آئی ہے۔ ایاٹا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مستقبل کی ترقی کا انحصار حکومتی پالیسیوں، موثر انفراسٹرکچر، اور ایندھن کے حوالے سے ہونے والی تبدیلیوں پر منحصر ہے۔

