خلیجی ملکوں کی فضائی حدود کی بندش اور ایئرلائنز کی پروازیں معطل ہونے سے مسافروں اور سامان کی نقل و حرکت میں کمی دیکھی گئی ہے۔
جینوا: ایئرلائنز کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل ایئرٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (ایاٹا) کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مارچ کےمہینے میں فضائی مسافروں اور سامان کی نقل و حرکت میں عالمی سطح پر بہتری ہوئی ہے۔ مگر خلیجی ملکوں میں جاری جغرافیائی و سیاسی کشیدگی نے عالمی فضائی صنعت کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ایشیاء کو یورپ امریکا اور اسٹریلیا سےملانے والے اہم ٹرانزٹ حب جزوی طور پر بند رہے اور اکثر خلیجی ملکوں کی فضائی حدود بند رہی اور متعدد بڑی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل کر دی تھیں۔
ایاٹا کے ڈیٹا کے مطابق قطردوحہ، دبئی اور ابوظہبی سے پروازوں کی آمد رفت مارچ میں شدید متاثر رہی اورپورے مہینے تقریبا فضائی اپریشن معطل رہا۔ جس کی وجہ سے بین الاقوامی مسافروں کی آمد رفت میں مارچ 2025 کے مقابلے اعشاریہ چھا فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ جبکہ سالانہ بنیادوں پر یہ کمی 6.2 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس مجموعی کمی کی بڑی وجہ خلیجی ملکوں کی ایئرلائنزکے اپریشنزمیں 60.8 فیصد کی نمایاں گراوٹ رہی۔
ایاٹا کا کہنا ہے کہ امریکااوراسرائیل کے ایران پر حملوں اور ایران کی جانب سے تمام خلیجی ملکوں میں امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کی وجہ سے تقریبا پورے خطے میں فضائی حدود مکمل یا جزوی بندش کا شکار رہیں۔ جس سے عالمی فضائی رابطوں پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
اس کے برعکس افریقہ، ایشیا پیسیفک، یورپ، شمالی امریکہ اور لاطینی امریکہ سمیت دیگر خطوں میں مسافر اورسامان کی فضائی نقل حرکت میں مثبت اضافہ دیکھا گیا ہے۔
فضائی کارگو سیکٹر بھی اس بحران سے بہت متاثر ہوا۔۔ فضائی کارگوکی کارکردگی کی طلب میں 54.3 فیصد کمی اور گنجائش میں 52.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کی وجہ سے عالمی سطح پر کارگو میں کمی دیکھی گئی اور مارچ 2026 میں عالمی کارگو طلب میں سالانہ بنیاد پر 4.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو اس کے عالمی فضائی نیٹ ورک پر دیرپا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ مشرقِ وسطیٰ ایشیا، یورپ اور افریقہ کو ملانے والا ایک اہم فضائی مرکز سمجھا جاتا ہے۔

