بدھ, مئی 13, 2026
ہومانرجیقیمتوں میں ہوش ربا اضافے کی وجہ سے اپریل کے مہینے میں...

قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کی وجہ سے اپریل کے مہینے میں پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں کمی دیکھی گئی ہے۔  

پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت اپریل میں سالانہ بنیادوں پر 7 فیصد جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 6 فیصد کم ہوئی ہے۔

کراچی: امریکا اوراسرئیل کے ایران پر حملے کے بعد دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ اور ابنائے ہرمز کے امریکا اور ایران کی جانب دوہری ناکہ بندی نے صورتحال کو مذید مخدوش کردیا ہے۔ اس وجہ سے اپریل کے مہینے میں دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئیں۔ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں بھی ہوش ربا اضافہ دیکھا گیا۔اپیرل میں فی لیٹرپیٹرول 74 فیصد اضافے کے بعد 458 روپے فی لیٹر تک جا پہنچا جبکہ ڈیزل کی قیمت 96 فیصد اضافے کے بعد 520 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ پاکستان میں حالیہ خلیجی کیشدگی کی وجہ سے ہفتہ وار قیمتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس لئے اپریل کے اخری ہفتے میں پیٹرول کی قیمت کم ہوکر 393روپے اور ڈیزل کی قیمت 380 روپے فی لیٹر کی سطح پر آگئی۔

قیمتوں میں اس ہوش ربا اضافے کے اثرات ایندھن کی کھپت پر بھی پڑے ہیں۔ اوراپریل 2026 میں پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی فروخت 13 لاکھ 60 ہزار ٹن رہی جو کہ سالانہ بنیاد پر 7 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 6 فیصد کم ہے۔

پیٹرول کی فی لیٹر فروخت 6 لاکھ 15 ہزار اور ڈیزل کی فروخت 5 لاکھ 50 ہزار ٹن رہی۔ ایچ او بی سی کی کھپت میں سب سے کمی دیکھی گئی ہے۔ اور ایچ او بی سی کی فروخت 87 فیصد کم ہوکر صرف 4 ہزار ٹن رہ گئی۔

پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے عوام کو محفوظ رکھنے کے لئے فروری سے اپریل تک حکومت نے 129 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی ہے۔ جبکہ مئی میں بھی حکومت نے سبسڈی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب آئی ایم ایف نے حکومت کو سبسڈی نہ دینے کا کہا ہے۔

پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں نے موٹرسائیکل سواروں کو سبسڈی دی جس سے پیٹرول کی فروخت کو کسی قدر سہارا ملا۔

صنعتی استعمال کے ایندھن جن کو نان ریٹیل ایندھن شمار کیا جاتا ہے میں فرنس اائل کی کھپت میں مسلسل دوسرے ہفتے اضافہ دیکھا گیا۔ جوسالانہ بنیادوں پر بڑھ کر 1 لاکھ 37 ہزار ٹن ہوگیا جوکہ گزشتہ 27 ماہ کی بلند ترین سطح ہے

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین