جنوری سےمارچ 2026 کے دوران کمپنی کے منافع میں 32 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
کراچی: فوجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی ) کا کہنا ہے کہ کمپنی کے پاس یی آئی اے ایکویٹی کے 34 فیصد حصص ہیں۔ اورمئی2027 تک کنسورشیم کو پی آئی اے کی سو فیصد ملکیت منتقل ہوجائے گی۔ پی آئی اے کی ادائیگی کنڈیشن پریسیڈنٹس مکمل ہونے کے بعد کی جائے گی۔ پی آئی اے کے حصص کے حصول کے لئے کمپنی اضافی قرض لے گی۔
فوجی فرٹیلائزر (ایف ایف سی) کمپنی کے مالیاتی نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران کمپنی کا علیحدہ منافع میں 32 فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جنوری سے مارچ کے دوران کمپنی کو 17.5 ارب روپے علیحدہ منافع ہوا جبکہ جوکہ سال 2025 کے اسی عرصے میں 13.3 ارب روپے۔ اس طرح فی حصص امدنی 12.1 روپے فی شیئر رہی جو کہ سال 2025 میں 9.3 روپے فی شیئر منافع رہا ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ فروخت میں اضافہ اور ٹی ای ایل سے حاصل ہونے والی ڈیویڈنڈ آمدنی ہے۔
فوجی فرٹیلائزرکمپنی کی یوریا فروخت پہلی سہ ماہی میں 12 فیصد بڑھ کر 6 لاکھ 1 ہزار ٹن رہی۔ جوکہ فرٹیلائزر صنعت کی مجموعی فروخت 6 فیصد تھی۔ ایف ایف سی کا مارکیٹ شیئر بڑھ کر 58 فیصد ہوگیا۔ مارچ 2026 تک کمپنی کے پاس مجموعی صنعتی ذخیرے کا 13 فیصد یعنی 1 لاکھ 6 ہزار ٹن یوریا اسٹاک موجود ہے۔
ایف ایف سی کی ڈی اے پی فروخت سالانہ بنیاد پر 2.1 گنا بڑھ کر 1 لاکھ 81 ہزار ٹن تک پہنچ گئی۔ ڈی اے پی صنعت کی مجموعی فروخت میں 94 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس دوران کمپنی کا مارکیٹ شیئر بڑھ کر 63 فیصد ہوگیا۔ کمپنی کے پاس 92 ہزار ٹن ڈی اے پی ذخیرہ موجود ہے جو مجموعی صنعتی اسٹاک کا 44 فیصد ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کی وجہ سے سلفر کی دسیتابی متاثر ہوئی۔ ایف ایف سی کی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 97 فیصد سلفر آبنائے ہرمز کے ذریعے درآمد کیا جاتا ہے۔ جبکہ عالمی سپلائی کا 50 فیصد مشرق وسطیٰ سے آتا ہے۔ چونکہ سلفر فاسفورک ایسڈ کی تیاری میں اہم جزو ہے اس لیے قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔
توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی تشویش کا باعث ہیں۔ اضافی لاگت کا ایک محدود حصہ صارفین کو منتقل کیا گیا ہے۔ کمپنی کسانوں پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کررہی ہے۔
فوجی فرٹیلائزر بن قاسم ( ایف ایف بی ایل) کے پلانٹ کو گیس کی کمی کا سامنہ ہے۔ انتظامیہ کے مطابق گیس کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث مجموعی صنعت کو یوریا پیداوار میں تقریباً 1 لاکھ ٹن نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں یوریا کی درآمدی لاگت اس وقت تقریباً 14 ہزار روپے فی بوری ہے جبکہ مقامی قیمت 4 ہزار 400 روپے فی بوری ہے۔ کمپنی نے دسمبر 2025 میں دی جانے والی تمام یوریا رعایتیں ختم کردی ہیں اور آئندہ مہینوں میں کسی نئی رعایت کا ارادہ نہیں رکھتی۔
کمپنی نے تیسری سہ ماہی میں اپنے ایک یوریا پلانٹ کی 15 روزہ مرمت اور مینٹیننس (ٹرن اراؤنڈ) کی بھی منصوبہ بندی کی ہے۔

